بیت بازی

by Other Authors

Page 494 of 871

بیت بازی — Page 494

494 ودر ثمین سر سے میرے پاؤں تک ؛ وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے میرے بدخواہ! کرنا ہوش کر کے، مجھے پہ وار سر پہ اک سورج چمکتا ہے؛ مگر آنکھیں ہیں بند مرتے ہیں دن آب وہ؛ اور در پہ نہر خوشگوار سایہ بھی ہو جائے ہے؛ اوقات ظلمت میں جدا پر رہا وہ ہر اندھیرے میں؛ رفیق وغمگسار ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تئیسواں دعوئی پہ؛ ازروئے شمار سارے منصوبے جو تھے میری تباہی کیلئے کر دئیے اُس نے جبہ ؛ جیسے کہ ہو گردوغبار سوچ کر دیکھو! کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے کوئی بتلائے نظیر اس کی؛ اگر کرنا ہے وار کو پیو؛ آسماں سے اب کوئی آتا نہیں عمرِ دنیا سے بھی اب ہے آ گیا ہفتم ہزار سب نشاں بے کار ان کے بغض کے آگے ہوئے ہو گیا تیر تعصب ان کے دل میں وار پار سرزمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے ہووے برق کا اک دم میں ہر جا انتشار سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں دل قومی رکھتے ہیں ہم؛ دردوں کی ہے ہمکو سہار سنت اللہ ہے؛ کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے تا عیاں ہو کون پاک؛ اور کون ہے مُردارخوار سوچ لو؛ اے سوچنے والو! کہ اب بھی وقت ہے راه حرماں چھوڑ دو ؛ رحمت کے ہو امیدوار سوچ لو! یہ ہاتھ کس کا تھا؟ کہ میرے ساتھ تھا کس کے فرماں سے میں مقصد پا گیا؛ اور تم ہو خوار سب پیاسوں سے نیکوتر ؛ تیرے منہ کی ہے پیاس جس کا دل اس سے ہے بریاں؛ پا گیا وہ آبشار سوچڑھے سورج ؛ نہیں بن رُوئے دلبر روشنی یہ جہاں ؛ بے وصل دلبر ہے شب تاریک وتار سخت مائم کے وہ دن ہوں گے ، مصیبت کی گھڑی لیک وہ دن ؛ ہوں گے نیکوں کیلئے شیر میں شمار سوچو دُعاء فاتحہ کو پڑھ کے بار بار کرتی ہے یہ تمام حقیقت کو آشکار در عدن سرپاک ہو اغیار سے؛ دل پاک، نظر پاک اے بندہ سبحان؛ خدا حافظ و ناصر سلام اس پہ؛ جس شاخ کا ہوں ثمر بڑا حق ہے جس کا میری ذات پر ۱۰ "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۴