بیت بازی

by Other Authors

Page 30 of 871

بیت بازی — Page 30

30 30 ۵۳۷ آنکھ سے میری برستا وہ لہو کہ پہلے شاید ہی اور کسی آنکھ سے برسا ہوتا ۵۳۸ اُس میں ہر لحظہ لرزتا ہوا، بجھتا ہوا عکس اک حسیں چاند سے چہرے کا جھلکتا ہوتا ۵۳۹ اب علاج غم تنہائی کہاں سے لاؤں تم کہیں ہوتے تو اس غم کا مداوا ہوتا ۵۴۰ اب کسے ڈھونڈوں تصور میں بسانے کیلئے چاند کوئی نہ رہا اپنا بنانے کیلئے تیرے اس لطف و کرم سے تو مرے کون و مکاں؛ دمک اٹھے ہیں، مری دھرتی چمک اُٹھی ہے ۵۴۱ اذن نغمہ تو دے تو میں کیوں نہ گاؤں ۵۴۲ ۵۴۳ ۵۴۴ اُس کے پر چھونے لگے تیرے قدم کی محراب کوئی باقی نہ رہی پھر کسی معبد کی تلاش اتنا نشہ ہے تیرے پیار کے گیتوں میں؛ کہ میں دوست کہہ دیتا ہوں تجھ کو اسی مد ہوشی میں ارم نے بھی تو دیکھی تھی ، خواب میں منصورہ کی لال پیاری لمبی اور لم ڈھینگی ؛ کرتی تھی جو دل کو نہال اس کے ہی غم سے تو آج آنکھیں ہوئی ہیں پر آب ذکر سے جس کے کھل اُٹھتے تھے کبھی دل کے گلاب ۵۴۶ آؤ اب بنچوں یہ ساگر کے کنارے بیٹھیں تھک چکے ہوگے تمہیں کل بھی تو جگراتا تھا ۵۴۷ اس کی مہمان نوازی ہمیں یاد آئے گی بے غرض اس کی محبت ہمیں تڑپائے گی ۵۴۸ اس کے دائم فراق میں شب و روز وصل کا سرمدی مزا ん تھا ۵۴۹ آپ کی داڑھی کا برگد دیکھ پاتیں وہ اگر اس پر پینگیں ڈالتیں؛ گاتیں، بجاتیں تالیاں ۵۵۰ اور پھر تم سے میں مل جاؤں گا جلدی یا بدیر اس جگہ مل کے جُدا پھر نہیں ہوتے ہیں جہاں ۵۵۱ آه! جب وصل کی اُمید کی کو جاگ اُٹھی کلفت ہجر شب و روز و مہ و سال کے بعد ۵۵۲ آج آیا بھی تو بدلا ہوا محبوب آیا غیر کے بھیس میں لپٹا ہوا؟ کیا خوب آیا ۵۵۳ اس طرح آیا کہ اے کاش! نہ آیا ہوتا مجھ سے جھینپا ہوا؟ سو پردوں میں محبوب آیا اُس سے کہا ؛ میں تھک گیا ہوں آنے جانے میں بھائی ہیں میرے منتظر؟ اندر زنانے میں ۵۵۵ اے مجھے ہجر میں دیوانہ بنانے والے! غمِ فرقت میں شب و روز ستانے والے! ۵۵۴ ۵۵۶ کلام محمود اُلفت نہ اُس کی گم ہو؛ رشتہ نہ اُس کا ٹوٹے چھٹ جائے خواہ کوئی؛ دامن نہ اُس کا چھوٹے