بیت بازی — Page 395
395 ۱۲ "ہم نے خدا کے دین کو بالکل بھلا دیا جو جو تھے حکم؛ سب کو نظر سے رگرا دیا ہم مر رہے ہیں بھیج مسیحا کو اے خدا! آنکھوں میں دم ہے تن سے نکل کر اٹک رہا ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ کلام طاهر ہمارے شام و سحر کا کیا حال پوچھتے ہو کہ لمحہ لمحہ نصیب ان کا بنارہے ہیں ، تمہارے ہی صبح وشام کہنا ہیں سب نام خدا کے سُندر؛ وا ہے گرو، اللہ اکبر سب فانی اک وہی ہے باقی ؛ آج بھی ہے جو کل ایشر تھا ہم تو رضائے باری پر ہی جیتے ہیں اس کی رضا پر ہی؛ اک دن مرنا ہوگا ہار کے پول میں کل ایک کنول ڈوب گیا ہارٹلے پول کا وہ پھول؛ وہ محبوب گیا ہو کسی کے تم سراپا؛ مگر آہ! کیا کروں میں میری روح بھی تمہاری؛ میرا جسم بھی تمہارا ہیں جان و جسم؛ سو تری گلیوں یہ ہیں نثار اولاد ہے؟ سو وہ تیرے قدموں پہ ہے فدا ہے مجھے تلاش اس کی؛ جو کبھی کا کھو چکا ہے مجھے جستجو کا کرکے؛ کہیں دور سے اشارا کلام محمود تو اپنے فضل کا ہے مری آخر میں يارب دعا سایہ رکھ اس پر ہے شہرہ ہوا قادیان کا مسکن ہے جو کہ مہدی آخر زمان کا ہر ہاں! جو نہ مانے احمد مرسل کی بات بھی کیا اعتبار ایسے شقی کی زبان کا ہر جنگ میں کفار کو ہے پیٹھ دکھائی تم لوگوں نے ہی نام ڈبویا ہے وفا کا ہم بھولے پھر رہے تھے، کہیں کے کہیں؛ مگر جو راہِ راست تھا؛ ہمیں اس نے بتا دیا ہم کیوں کریں نہ اس پہ فدا جان و آبرو روشن کیا ہے دین کا جس نے بجھا دیا ایسی شان قیصر ہندوستان کی ہے ہے دشمن اُس کی خنجر بُتاں سے کانپتا ہیں در مالک پر بیٹھے ہم لگائے ٹکٹکی ہاں! کبھی تو اپنا نالہ بھی رسا ہو جائے گا ہوا آخر نکل جاتی ہے آزار محبت کی چھپاؤ لاکھ تم اس کو؛ وہ پنہاں ہو نہیں سکتا ہر اک دم اپنی قدرت کے انہیں جلوے دیکھاتا ہے جو اس کے ہور ہیں؛ پھر ان سے پنہاں ہو نہیں سکتا ہزاروں حسرتوں کا روز دل میں خُون ہوتا ہے کبھی ویران یہ گنج شھیداں ہو نہیں سکتا