بیت بازی — Page 388
388 ۵۲ ۵۵ ۵۶ ۵۸ ا مسکراتے ہوئے؟ ہوا رخصت ساتھ اس کے میں اشکبار گیا مُنِعَ العُلُوْمَ صَغِيْرَهَا وَكَيْرَهَا صَبَّتْ سَمَاءَ الْعِلْمِ مَا ءَ غُيُؤْمِهَا ۵۳ معصیت و گناہ سے دل میرا داغ دار تھا پھر بھی کسی کے وصل کے شوق میں بیقرار تھا ۵۴ مجھ سے لاکھوں ہیں تیری دُنیا میں تجھ سا پر کوئی دوسرا نہ بنا مانے نہ مانے ، اس سے کیا؟ بات تو ہوگی دو گھڑی قصہ دل طویل کر؛ بات کو تو بڑھائے جا تو منزل عشق ہے کٹھن راہ میں راہزن بھی ہیں پیچھے نہ مڑ کے دیکھ تو ؛ آگے قدم بڑھائے جا ۵۷ مسحور کر دیا مجھے دیوانہ کر دیا تیری نگاہ لطف نے کیا کیا نہ کر دیا میری شکایتوں کو ہنسی میں اُڑا دیا لایا تھا جو میں سنگ؛ اُسے دانہ کر دیا و ۵۹ مدتوں کھیلا کیا ہے لعل و گوہر سے غدو اب دکھادے تو ذرا جوہر اُسے شمشیر کا محسن بدہیں کی صحبت ؛ حق کی خاطر چھوڑ دی کافر نعمت بنا؛ لیکن مسلماں ہو گیا میں دکھانا چاہتا تھا اُن کو حالِ دل؛ مگر وہ ہوئے ظاہر؛ تو دل کا درد پنہاں ہو گیا میں بڑھا اِک گز ؛ تو وہ سوگز بڑھے میری طرف کام مشکل تھا؛ مگر اس طرح آساں ہوگیا مرے ہی پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھ سکے؛ افسوس اُنھیں تو سامنے آنے میں کچھ حجاب نہ تھا میں مانگنے گیا تھا کوئی اُن کی یادگار لیکن وہاں اُنھوں نے میرا دل اُڑا لیا میں صاف دل ہوں ؟ مجھ سے خطا جب کبھی ہوئی آب کجال سے میں اُسی دم نہا لیا ملمع ساز اس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں دُنیا میں مگر وہ عاشق صادق کے پہلو سے نکل آیا موتی تو ہیں؛ پر اُن کو پرونا نہیں آتا آنسو تو ہیں آنکھوں میں؛ پہ رونا نہیں آتا میں لاکھ جتن کرتا ہوں؛ دل دینے کی خاطر پر اُن کی نگہ میں یہ کھلونا نہیں آتا ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ مثال سنگ بحرِ سعی پیہم میں پڑا رہتا نہ کچھ پرواه ہوتی ؛ پاس رہتا یا جدا رہتا کلام ) حضرت خليفة المسيح الثالث ) مجھ میں تڑپ وہ ہو گی ، بجلی بھی جھینپ جائے دل عشق سے بھروں گا، اور بے قرار ہوں گا