بیت بازی — Page 387
387 ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۶ ۳۸۔عطا محمود نہ کیوں اس کے مخالف ہوں پریشاں نائب ہے نبی کا وہ؛ فرستادہ خُدا کا ۳۰ محمود درد دل سے یہ ہے اب میری دعا قیصر کو بھی ہدایت اسلام ہو مہدی دوران کا جو خاک پا ہو جائے گا مہر عالمتاب سے روشن ہوا ہو جائے گا مکان دل میں لا کر میں غم دلبر کو رکھوں گا مُبارک اس سے بڑھ کر کوئی مہماں ہو نہیں سکتا غم معافی دے نہ جب تک وہ مرے سارے گناہوں کی جُدا ہاتھوں سے میرے؛ اُس کا داماں ہو نہیں سکتا مثال کوه آتش بار کرتا ہوں فغاں ہردم کسی کا مجھ سے بڑھ کر سینہ پر یاں ہو نہیں سکتا ۳۵ محمود دل خُدا سے لگاتے؛ تو خوب تھا شیطاں سے دامن اپنا چھڑاتے ؛ تو خُوب تھا مدت سے ہیں بھٹک رہے وادی میں عشق کی وہ خود ہی آکے راہ دکھاتے؛ تو خوب تھا ۳۷ میں نے جس دن سے ہے پیارے ترا چہرہ دیکھا پھر نہیں اور کسی کا رُخ زیبا دیکھا مشتری بھی ہے ترا مشتری؛ اے جانِ جہاں اس نے جس دن سے ہے تیرا رُخ زیبا دیکھا مجھ پر بھی اس کی فکر میں آرام ہے حرام میں اُس کے غم میں خود ہوں شکار بکلا ہوا میں تو کمزور تھا؛ اس واسطے آیا نہ گیا کس طرح مانوں؛ کہ تم سے بھی بلایا نہ گیا ملتا کس طرح کہ تدبیر ہی صائب نہ ہوئی دل میں ڈھونڈا نہ گیا؛ غیر میں پایا نہ نہ گیا محبوبوں کا محبوب تھا؛ دلداروں کا دلدار معشوقوں کا معشوق دلاروں کا دلارا مانا! کہ تیرے پاس نہیں دولت اعمال مانا! تیرا دُنیا میں نہیں کوئی سہارا مرے ہمراز سب دنیا کا کام اُس میں پہ ہے چلتا مگر میں بھی تبھی ہوتی ہے؛ جب ہو سامنا تو کا مجھ سے تم نفرت کرو گے؛ سامنے میرے نہ ہو گے ساتھ میرا چھوڑ دو گے ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا میری حالت پر نظر کر ؛ عیب سے غَضِ بصر کر ڈھیر ہو جاؤں گا مر کر ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا ۴۷ ملیک و مالک و خلاق عالم رحیم و راحم و بحر العطايا میں وہاں ایک اور خیال میں تھا کیا کہوں؟ میں نرالے حال میں تھا لده ۴۱ ۴۲ ۴۳ م م ۴۶ ۴۸ ۴۹ میں یونہی اُس کو آزماتا تھا ۵۰ میری خاطر اگر تھا ہے چین تھا پاک کرنے کو دل جلاتا کب مجھے اس کے بن قرار آیا