بیت بازی — Page 381
381 اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ 22 2^ و 1۔۸۲ کہتے ہیں کہ مٹ جاتا ہے دھونے سے ہر اک داغ اے وائے! مجھے داغ کا دھونا نہیں آتا کیا فائدہ اس در پہ تجھے جانے کا اے دل! دامن کو جو اشکوں سے بھگونا نہیں آتا رکس پر تے پر امید رکھوں اُس سے جزا کی کاٹوں گا میں کیا خاک؛ کہ بونا نہیں آتا کبھی آفاتِ ارضی و سماوی سے ہے ٹکراتا کبھی ٹو بھی جو لگ جائے ، تو تیرا منہ ہے مُرجھاتا کس طرح تجھ کو گناہوں پہ ہوئی یوں حجرات اپنے ہاتھوں سے کبھی زہر تو کھایا نہ گیا سے اسلام مٹایا نہ گیا گفر نے لاکھ تدابیر کیں؛ لیکن پھر بھی کی صفحه دہر کیا محبت جائے گی یوں کیا پڑا روؤں گا میں خوں یاد کر کے چشم کے گوں میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا ہوئی الفت ہماری ؛ کیا ہوئی چاہت تمہاری کھا چکا ہوں زخم کاری ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا سناتے ہو مجھے تم ؛ کیوں ستاتے ہو مجھے تم بس بناتے ہو مجھے تم ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا راتیں یوں ہی ہوں جائیں گی باتیں؟ تھیں جو مجھ کو شب براتیں میں تمھیں جانے جانے نہ دوں گا کہ مشرق اور مغرب دیکھ ڈالے سکوں لیکن کہیں اس نے نہ پایا کچھ لوگ کھا رہے ہیں غم قوم صبح و شام کچھ صبح و شام سوچتے رہتے ہیں کھائیں کیا کیا ملاقاتوں کل دو پہر کو ہم جب تم سے ہوئے تھے رخصت؟ ظاہر میں چُپ تھے، لیکن دل خون ہو رہا تھا، افسر دہ ہو رہا تھا؛ محزون ہو رہا تھا ۸۴ کرنا خُدا سے اُلفت، رہنا تم اُس سے ڈر کر؛ بس اُس کو یاد رکھنا سوفار عشق اس کا تم دل کے پار رکھنا تم اُس پیار رکھنا ۸۵ ۸۶ گم نَورَ وَجهَ النَّبِيِّ صَحَابُهُ كَالفُلْكِ ضَآءَ سَطْحُهَا بِنُجُومِهَا كم تَنفَحُ الثَّقَلَينِ تَعلِيمَاتُهُ قَد خُصَّ دِينُ مُحَمَّدٍ بِعُمُومِهَا ۸۷ کشور دل کو چھوڑ کر جائیں گے وہ بھلا کہاں آئیں گے وہ یہاں ضرور ؛ تو انہیں بس بُلائے جا کہتے ہیں میرے ساتھ رقیبوں کو بھی تو چاہ لو اور مجھ غریب مجرمانہ کر دیا کاغذی جامہ کو پھینک؛ اور آہنی زرہیں پہن وقت اب جاتا رہا ہے شوخی تحریر کا ۸۸ ۸۹