بیت بازی — Page 323
323 1۔1+1 ۱۰۲ ہے یہ تینوں تیرے بندے؛ رکھیو نہ ان کو گندے کر ان سے دُور یا رب! دنیا کے سارے دھندے یہی ہے کہ نوروں سے معمور ہے جو دور اس سے؛ اس سے خدا دور یہ تینوں تیرے چاکر؛ ہوویں جہاں کے رہبر یہ ہادی جہاں ہوں؛ یہ ہوویں نوریکسر یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے؛ جہل کے پردے خطا کرتے ہو، باز آؤ! اگر کچھ خوف یزداں ہے یہ نانگ سے کیوں رہ گیا اک نشاں بھلا اس میں حکمت تھی کیا در نہاں ۱۰۵ یه مخفی امانت ہے کرتار کی یہ تھی اک کلید؛ اس کے اسرار کی ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۶ ۱۰۷ ۱۰۸ 1+9 11۔۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۷ ۱۱۸ ۱۱۹ ود رعدر یہ دعا ہے؛ کہ جدا ہو کے بھی خدمت میں رہوں زندگی میری رہے وقفِ دعا تیرے بعد یارب! ہمارے شاہ کی بستی اُداس ہے اس تخت گاہ کے راج دلارے کب آئیں گے یارا نہیں پاتی ہے زباں شکروثنا کا احساں سے بندوں کو دیا اذن دعا کا یہ فرمان ربی ہے کیوں؟ اسلئے کہ اس نے سہے دکھ تمہارے لئے وجود اس کا خود اس کی بُرہان ہے مولا کا اک خاص احسان ہے برکت سب اسلام کی اُس رحمت عام کی دل مسلم ہے تسکیں وہ لایا کا ٹھیراتا ہے یاد جو ہروم رہے؛ اس کو دعائے خاص میں کس طرح دیں گے بھلا؟ اہل وفائے قادیاں تہ درد ؛ کبھی راز نہاں رہ نہیں سکتا جوش دبائے سے اُبھرتا ہے زیادہ گو ضبط بھی کرتا رہے؛ بیمار محبت مجبور ہے، مجبور ہے؛ سرشار محبت یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی یہ دعا ہے؛ میرا دل ہو، اور تیرا پیار ہو میرا سر ہو؛ اور تیرا پاک سنگ آستاں یہ راحتِ جاں، نور نظر؛ تیرے حوالے یارب! میرے گلشن کا شجر تیرے حوالے یہ شاخ قلم کرتا ہوں پیوند کی خاطر اتنا تھا میرا کام؛ ثمر تیرے حوالے یہ نازش صد شمس و قمر؛ تیرے حوالے مولا! میرا نایاب پدر تیرے حوالے