بیت بازی — Page 276
276 ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ٩٩ 1۔۔1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ نہ اپنی ہی خبر رہتی ہے؟ نے یاد اعزہ ہی جب اس کی یاد آتی ہے، تو پھر سب کچھ بھلاتی ہے نہ تو ہے زاد، نہ ہمت نہ ہی طاقت نہ رفیق میرے جیسا بھی کوئی بے سر و سامان نہ ہو مخل اسلام پہ رکھا ہے مخالف نے نہر واخیا شاہ کہ ساعت یہ بڑی بھاری ہے نہ رہتی آرزو دل میں کوئی مجد دید جاناناں کبھی پوری پوری ابھی یہ ہماری آرزو ہوتی ، نہ بنتے تم جو بیگانے، تو پھر پردہ ہی کیوں ہوتا شبیہہ یار آکر خود بخود ہی روبرو ہوتی نہ سلطنت کی تمنا نہ خواہش اکرام یہی ہے کافی؛ کہ مولیٰ کا اک نقیب ہوں میں نفس کی قید میں ہوں ، مجھ کو چھڑالے پیارے! غرق ہوں بحر معاصی میں؛ بچالے پیارے! نام کی طرح میرے کام بھی کر دے محمود مجھ کو ہر قسم کے عیبوں سے بچالے پیارے! نہ ملیں تو بھی دھڑکتا ہے ملیں تو بھی اے دل! تجھ کو کیا بیٹھنا آتا نہیں نچلا ہو کر نفس کو کھولنا چاہا پہ بھلایا نہ گیا جان جاتی رہی؟ پر اپنا پرایا نہ گیا نفس طامع بھی کبھی دیکھتا ہے رُوئے نجات فتح ہوتے ہیں کبھی ملک بھی گف گیروں سے نیک و یک کا نہیں مجھ کو کچھ ہوش سر میں ہر دم خُمار رہتا ہے نہ نکلیں گے، نہ نکلیں گے نہ نکلیں گے ہم کبھی جب تلک سر بدع و کفر کا میدان نہ ہو ۱۸ نہ سہی جُود یہ وہ کام تو کر تو جس میں غیر کا نفع غیر کا نفع ہو؛ تیرا کوئی نقصان نہ ہو ۱۰۴ ۱۰۵ 1+4 1۔2 1+9 ۱۱۰ 川 ۱۱۲ ۱۱۳ نظر آئیں تمتاؤں کی سمر چاروں میں قبریں نہ احساس انانیت؛ کہ اس کے زور سے پہنچیں میرے دلدار ! ہم پر بند ہیں سب وصل کی راہیں نہیں دل اپنے سینوں میں دھرے ہیں بلکہ انگارے پھینکے جاتے ہیں سر سے پاؤں تک ہم ہجر کے مارے نظر تھی جس پہ رحم کی؛ جو خوشہ چین فضل تھا دلی غلام جان نثار آپ کا وہی تو ہے نہیں ہیں میرے قلب پہ کوئی نئی تجلیاں حرا میں تھا جو جلوہ گر ؛ میرا خُدا وہی تو ہے نہیں ہے جس کے ہاتھ میں کوئی شے ؛ وہی تو ہوں جو ہے قدیر خیروشر ؛ میرا خُدا وہی تو ہے ۱۵ نکل جائے مری جاں خواہ تن سے نہ دل سے پر میرے ایمان نکلے نکلتی ہے مری جاں؛ تو نکل جائے نہ دل سے پر ترا پیکان نکلے ۱۱۴