بیت بازی — Page 14
14 ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۷ ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ اک نشاں دکھلا ؛ کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں اک نظر کر اس طرف؛ تا کچھ نظر آوے بہار ایک بد کردار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے؛ وہ کیا ہے بد کنوں کا رشتہ دار آنکھ گر پھوٹی ، تو کیا کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا کیا خدا دھوکے میں ہے؛ اور تم ہو میرے راز دار اس جہاں کا کیا کوئی داور نہیں اور دادگر پھر شریر النفس ظالم کو کہاں جائے فرار آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں؛ گومنہ کریں بگ بگ ہزار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے؛ کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار اے مکذب! کوئی اس تکذیب کا ہے انتہا کب تلک تو خوئے شیطاں کو کریگا اختیار ان غموں سے دوستو! خم ہوگئی میری کمر میں تو مر جاتا؟ اگر ہوتا نہ فضل رکر دگار اس تپش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے تپش اس آئم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دلفگار اک شجر ہوں ؛ جس کو داؤ دی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اس کی ؛ کہ ہے وہ دورتر از صحن یار اس رُخ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہوگئے اسرار اس دلبر کے مجھ پر آشکار اہل تقویٰ تھا کرم دیں بھی؛ تمہاری آنکھ میں جس نے ناحق ظلم کی رہ سے کیا تھا مجھ پہ وار اب کہو! کس کی ہوئی نصرت جناب پاک سے کیوں تمہارا متقی پکڑا گیا؟ ہو کر کے خوار اب ذراسوچو! دیانت سے؛ کہ یہ کیا بات ہے ہاتھ کس کا ہے؛ کہ رڈ کرتا ہے وہ دشمن کا وار اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذاب کی کیا تمھیں کچھ ڈرنہیں ہے؛ کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار آفتاب صبح نکلا؛ اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ دن سے ہیں بیزار؛ اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیار ان کی قسمت میں نہیں دیں کیلئے کوئی گھڑی ہوگئے مفتون دنیا؟ دیکھ کر اس کا سنگار انبیاء کے طور پر محبت ہوئی ان پر تمام ان کے جو حملے ہیں ان میں سب نبی ہیں حصہ دار یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی پھر عجب تر یہ؛ کہ نصرت کے ہوئے جاری بکار اس قدر نصرت تو کاذب کی نہیں ہوتی کبھی گر نہیں باؤر؛ نظیریں اس کی تم لاؤ دوچار اپنے ایماں کو ذرا پردہ اٹھا کر دیکھنا مجھ کو کافر کہتے کہتے؛ خود نہ ہوں از اہلِ نار ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ اس قدر