بیت بازی — Page 13
13 ۱۸۸ ۱۸۹ ۱۹۰ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۵ ۱۹۶ ۱۹۸ ۱۹۹ اپنا تو اس کا وعدہ رہا سارا طاق پر اوروں کی سعی و جہد یہ بھی کچھ نہیں نظر آخر یہ بات کیا ہے؟ کہ ہے ایک مفتری کرتا ہے ہر مقام میں اس کو خدا بری اک اتفاق کر کے؛ وہ باتیں بناتے ہیں سو جھوٹ اور فریب کی تہمت لگاتے ہیں اے قوم کے سرآمده! اے حامیانِ دیں سوچو! کہ کیوں خدا تمہیں دیتا مدد نہیں الزام مجھ پہ قتل کا تھا؟ سخت تھا یہ کام تھا ایک پادری کی طرف سے یہ اتہام ۱۹۳ اتنی شہادتیں ہیں؛ کہ اب کھل گیا قصور اب قید یا صلیب ہے؛ اک بات ہے ضرور ۱۹۴ القصہ جہد کی نہ رہی کچھ بھی انتہا اک سو تھا مگر ؛ ایک طرف سجدہ و دُعا آخر خدا نے دی مجھے اس آگ سے نجات دشمن تھے جتنے ان کی طرف کی نہ التفات اس کا تو فرض تھا؛ کہ وہ وعدہ کو کر کے یاد خود مارتا وہ گردن کذاب بد نهاد ۱۹۷ ان میں سے ایسے تھے، کہ جو بڑھ بڑھ کے آتے تھے اپنا بیاں لکھانے میں گرتب دکھاتے تھے اے ہوش و عقل والو! یہ عبرت کا ہے مقام چالاکیاں تو بیچ ہیں؛ تقویٰ سے ہوویں کام اس بد عمل کی قتل سزا ہے؟ نہ یہ کہ پیت پس کس طرح خدا کو پسند آگئی یہ ریت آخر کوئی تو بات ہے؛ جس سے ہوا وہ یار بدکار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں پیار ان کے گماں میں؛ ہم بد و بدحال ہو گئے ان کی نظر میں کافر و دجال ہو گئے اے مدعی! نہیں ہے تیرے ساتھ کر دگار یہ کفر تیرے دیں سے ہے بہتر ہزار بار ابتداء سے گوشئہ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ، ہر اک عظمت سے عار اس میں میرا جرم کیا؟ جب مجھ کو یہ فرماں ملا کون ہوں تا رڈ کروں حکیم شہ ذی الاقتدار ۲۰۵ اب تو جو فرماں ملا؟ اس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار ایسے کچھ بگڑے؛ کہ اب بنتا نظر آتا نہیں آہ! کیا سمجھے تھے ہم؛ اور کیا ہوا ہے آشکار اے مرے پیارے! فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ میرا پھیر دے میری طرف ؛ اے سا رہاں ! جنگ کی مہار اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پہ اپنے؛ تا وہ ہوویں رستگار اے خدا! بن تیرے ہو یہ آبپاشی رکس طرح جل گیا ہے باغ تقومی ؛ دیں کی ہے اب اک مزار ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۳ ۲۰۴ ۲۰۶ ۲۰۷ ۲۰۸ ۲۰۹