بیت بازی

by Other Authors

Page 234 of 871

بیت بازی — Page 234

234 ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ گلشن گرز و مگدر کے اُٹھانے سے بھلا کیا حاصل خاک آلوده برادر کو اُٹھائے کوئی گر نه دیدار میسر ہو؟ نہ گفتار نصیب کوچه عشق میں جا کر کوئی؛ کیا لے پیارے! گر نہیں عرش معلیٰ یہ ٹکراتی تو پھر سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں ؛ صدائے قادیاں احمد کے پھولوں کی اُڑا لائی جو کو زخم تازہ کر گئی بادِ صبائے قادیاں ۹۴ گیسوئے یار پریشان ہوئے جاتے ہیں اب تو واعظ بھی پشیمان ہوئے جاتے ہیں گورے کالے کی اُٹھی جاتی ہے دنیا سے تمیز سب تیرے تابع فرمان ہوئے جاتے ہیں گھونسلے چڑیوں کے ہیں ماندیں ہیں شیروں کیلئے پر میرے واسطے دنیا میں کوئی گھر ہی نہیں ۹۵ ۹۶ ۹۸ دریغا! وہ ہم بہت نادان نکلے ۹۷ گنوا دی قشر کی خواہش میں سب عمر گیڈر کی طرح وہ تاک میں ہوں؛ اور بیٹھے خوابیں دیکھتے ہوں؛ شیروں کے شکار جانے کی ان کا جوٹھا کھانے کی گر تیری ہمت چھوٹی ہے گر تیرے ارادے مُردہ ہیں گر تیری اُمنگیں کو تہ ہیں؛ گر تیرے خیال افسردہ ہیں گم گشتہ راہ کیلئے تو خضر راہ ہے تیری ضیاء؛ رفیق ازل کی نگاہ گناہوں کو بخشش سے ہے ڈھانپ دیتا غریبوں کو رحمت سے ہے تھام لیتا گلعذار گیا دل کا سکھ چین اور قرار گیا ۹۹ 1۔۔1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ گھر ނ میرے وہ ہے گذری ہے عمر ساری گناہوں میں ؛ اے خدا! کیا پیشکش حضور میں یہ شرمسار دے گالیاں، دشمنِ دیں ہم کو جو دیتے ہیں، تو دیں کام لیں صبر و قتل سے ہے زیبا ہم کو گو تھی یہودیوں کی نہ وہ اپنی سلطنت پر اپنی سلطنت سے بھی آرام تھا سوا گاتے ہیں جب فرشتے کوئی نغمہ جدید ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں؛ فوراً ہی ساز ہم ۱۰۷ کو لاکھ تو مقابلہ اس کا کرے؛ مگر بیکا نہ بال ہوگا کوئی؛ اس جوان کا ۱۰۶