بیت بازی — Page 199
199 11 ۱۳ ۱۴ ۱۶ ۱۸ قرآن کتاب رحماں؛ سکھلائے راہِ عرفاں جو اس کے پڑھنے والے اُن پر خدا کے فیضاں قرآں کو یاد رکھنا؟ پاک اعتقاد رکھنا فکر معاد رکھنا؛ پاس اپنے زاد رکھنا سے ڈرو قوم سے مت ڈرو؛ خدا آخر اس کی طرف ہی رحلت ہے قدرت سے اس قدیر کی انکار کرتے ہیں بکتے ہیں؟ جیسے غرق ہو کوئی شراب میں ۱۵ قوم کے خوف سے وہ مرتے ہیں سو نشاں دیکھیں؛ کب وہ ڈرتے ہیں قدرت نہیں ہے جس میں وہ خاک کا ہے ایشر کیا دینِ حق کے آگے زورآزما یہی ہے قرآں خدا نما ہے؛ خدا کا کلام ہے بے اس کے؛ معرفت کا چمن، ناتمام ہے قصوں کا یہ اثر ہے؛ کہ دل پرفساد ہے ایماں زباں پہ سینہ میں حق سے عناد ہے 19 قصوں سے پاک ہونا؛ کبھی کیا مجال ہے سچ جانو! یہ طریق سراسر محال ہے ۲۰ قصوں سے کب نجات ملے ہے گناہ سے ممکن نہیں وصال خدا ایسی راہ سے قبضہ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا پھیر دے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے چھا رہا ہے ابر یاس؛ اور رات ہے تاریک و تار قوم کے لوگو! ادھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادی ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ در عدن قدم مسیح کے؛ جس کو بنا چکے ہیں حرم تم اس زمین کرامت نشاں میں رہتے ہو قبضے میں اپنے کوئی حکومت نہیں رہی ہم لٹ گئے ؟ ہماری وہ عزت نہیں رہی قوم احمد! جاگ تُو بھی؛ جاگ اس کے واسطے ان گنت راتیں؛ جو تیرے درد میں سویا نہیں قابل رشک ہے؛ اس خاک کے پتلے کا نصیب جس کی قسمت میں ہو؛ خاک در جاناں ہونا قرار و سکوں دل کو آتا نہیں ہے کسی طور چین پاتا نہیں ہے جانتے ہیں سہل دشمن جنس ایماں کی خرید؛ ۲۹ قدرداں اسلام کے باقی نہ حامی ہے یہ عید ہیں کہاں آگے بڑھیں نصرت کو مردان سعید عالی جناب ہو جائے ۳۰ قرب رحمت مآب حاصل ہو وصل