بیت بازی — Page 7
7 ۵۶ ارے لوگو! تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں اس رکھنا نظر دوشالے چڑھے اور ذَر یہی فخر سکھوں کا ہے سربر وقت جاوے نکل تو پھر ہاتھ مل مل کے رونا ہے کل ۵۷ اسی پر ۵۸ اگر ہاتھ ۵۹ اگر مان لو گے گرو کا ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۷ ۶۸ واک تو راضی کرو گے اسے ہو کے پاک اٹھو سونے والو! کہ وقت آگیا تمہارا گرو تم کو سمجھا گیا اُس دن نہیں گزارا؛ غیر اس کے جھوٹ سارا یہ روز کر مبارک سبحــــان مــــن یـــرانــی اے میرے رب محسن! کیونکر ہو شکر احسان یہ روز کر مبارک سبـــحــــان مـــن یـــرانـــی اپنی پسند میں رکھیو! سن کر یہ میری زاری یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مــــن یـــرانـــی ان پر میں تیرے قرباں؛ رحمت ضرور رکھیو یہ روز کر مبارک سبحــــان مــــن یـــرانـــی ان پر خدا کی رحمت؛ جو اس پہ لائے ایماں یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مـــــن یـــرانـــی اکسیر ہے پیارے! صدق و سداد رکھنا به روز کر مبارک سبــــحـــــان مـــــن یـــرانـــی اس کے ہیں دو برادر؛ ان کو بھی رکھیو خوشتر تیرا بشیر احمد تیرا شریف اصغر اے میرے دل کے پیارے اے مہرباں ہمارے! کر ان کے نام روشن؛ جیسے کہ ہیں ستارے اے میری جاں کے جانی! اے شاہِ دو جہانی! کر ایسی مہربانی؛ ان کا نہ ہووے ثانی اگر ہزار بلا ہو، تو دل نہیں ڈرتا ذرا تو دیکھئے! کیسا ہے حوصلہ دل کا اے واحد و یگانہ! اے خالق زمانہ! میری دعائیں سن لے؛ اور عرض چاکرانہ اقبال کو بڑھانا؛ اب فضل لے کے آنا ہر رنج سے بچانا؛ دکھ درد سے چھڑانا اہل وقار ہوویں؛ فخر دیار ہوویں حق پر شار ہو دیں؛ مولی کے یار ہوویں اس دل میں تیرا گھر ہے؛ تیری طرف نظر ہے تجھ سے میں ہوں منور؛ میرا تو، تو قمر ہے اے دوستو پیارو! عقبی کو مت پسارو کچھ زاد راہ لے لو؛ کچھ کام میں گزارو اے میرے بندہ پرور! کر ان کو نیک اختر رتبہ میں ہوں یہ برتر ؛ اور بخش تاج و افسر احقر کو میرے پیارے! اک دم نہ دور کرنا بہتر ہے زندگی سے تیرے حضور مرنا ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ 22