بیت بازی — Page 174
174 ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ شوکت الفاظ بھرائی ہوئی آواز میں گرب و غم میں بھی نمایاں عزم و ایمان و یقیں ۴۳ ۴۴ كلام طاهرة شیر میں بول انفاس معتبر ؛ نیک خصائل پاک شائل حامل فرقاں عالم و عامل ، علم و عمل دونوں میں کامل شہر جنت کے ملا کرتے تھے طعنے جس کو بن گیا واقعہ خُلدِ بریں آج کی رات شام غم دل پر شفق رنگ دُکھی زخموں کے تم نے جو پھول کھلائے؟ مجھے پیارے ہیں وہی کلام محمود پا جاتے ہیں وہ رفتہ رفتہ روا کہ آخر ہر مرض کی؛ اک دوا ہے شرارت اور بدی سے باز آؤ دلوں میں کچھ بھی گر خوف خدا ہے شیطاں سے جنگ کرنے میں ؛ جاں تک لڑاؤنگا یہ عہد ذات باری سے؛ آب کر چکا ہوں میں شیطاں ہے ایک عرصہ سے دنیا پر حکمران اُٹھو! اور اُٹھ کے خاک میں اس کو نہاں کرو پہ شرم آتی ہے، ہے، یہ کہتے؟ کہ نہیں ملتا تو تیری تصویر کو میں دل سے مٹا لوں تو کہوں شفا ہوں ہر مریض رُوح کی ہم بن جائیں؛ دَردِ لا دوا کی شوق ہو دل میں اگر کوئی؛ تو اُس کی دید کا کان میں کوئی صدا آئے نہ؛ جز گفتار یار شکائتیں تھیں ہزاروں بھری پڑی دل میں رہی نہ ایک بھی پر؛ اُن کے رُوبرُو باقی شاہدوں کی کیا ضرورت ہے؛ کسے انکار ہے میں تو خُو د کہتا ہوں مولیٰ ! میں گنہگاروں میں ہوں شان اسلام ہوگی کب ظاہر کب مسلمان ہوں گے محرم و شاد گدگداتی تھی دل کو جس کی یاد شکل ئے دیکھ کے گرنا نہ مگس کی مانند دیکھ لینا؟ کہ کہیں درد تہ جام نہ ہو شکر کر شکر یاد کرتا ہے شاید اس کے دل میں آیا؛ میری جانب سے مخبار آسماں چاروں طرف سے؛ کیوں مخبار آلود ہے شمشیر زباں سے گھر بیٹھے دشمن کو مارے جاتے ہوں میدانِ عمل کا نام بھی لو؛ تو جھینپتے ہوں ، گھبراتے ہوں شی کولاک نعمت نہ پاتے تو اس دنیا سے ہم اندھے ہی جاتے ہزار بیٹھی تھی کانپتی؛ بے قرار بیٹھی تھی ۴۵ شاخ گل