بیت بازی

by Other Authors

Page 173 of 871

بیت بازی — Page 173

173 ۹ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۸ ۱۹ ۲۲ شانِ حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی؛ اس ذات کو پایا ہم نے ہے ہے شمار فضل اور رحمت نہیں مجھے اب شکر کی طاقت نہیں شور کیسا ہے ترے کوچہ میں؛ لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے؛ کسی دیوانہ مجنوں وار کا شہادت تھی اسلام کی جابجا کہ سچا وہی دیں ہے؛ اور رہنما شریف احمد کو بھی پھل کھلایا کہ اس کو تو نے خود فرقاں سکھایا ۲۳ اور بدعت ہم بیزار ہیں خاک راه احمد مختار ہیں شکر یہ مل گیا ہم کو وہ لعل بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا شکوہ کی کچھ نہیں جا؛ یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سبـــحــــان مــــن یـــانـــی شکر خدائے رحماں؛ جس نے دیا ہے قرآں غنچے تھے سارے پہلے؛ آب گل کھلا یہی ہے شادابی و لطافت اس دیں کی کیا کہوں میں سب خشک ہو گئے ہیں؛ پھولا پھلا یہی ہے شوخی و کبر؛ دیو لعیں کا شعار ہے آدم کی نسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید وہ بد نہ ہو؛ جو تمہیں ہے وہ بدگما شاید ہو شاید وہ آزمائش رَبِّ غفور ہو شاید تمہاری فہم کا ہی کچھ قصور شکر یہ میری بھی آہیں نہیں خالی گئیں میری بھی آہیں نہیں خالی گئیں کچھ بنیں طاعوں کی صورت کچھ زلازل کے بخار ـرٌ عَدَن شکر کرنے کی بھی طاقت نہیں پاتا جس دم کیا ہی نادم؛ دل مجبور نظر آتا ہے شمس ملت؛ جلد فارغ دورہ مغرب سے ہو مطلع مشرق سے پھیلائے؛ ضیائے قادیاں شان تیری؛ گمان ނ بڑھ کر حسن و احسان میں؛ نظیر عدیم شعلہ سا ترے حکم سے سینوں میں بھڑک جائے پھر بجھ نہ سکے تا به ابد نار محبت شبیں جہاں کی شب قدر اور دن عیدیں جو ہم سے چھوٹ گیا اس جہاں میں رہتے ہو ۲۴ شانی و کافی و حفیظ و سلام مالک ۲۵ و ذوالجلال والاکرام شعلہ جو دل میں بھڑکتا ہے؛ دبا دو اس کو جھوٹ پر آگ جو لگتی ہے؛ بُجھا دو اس کو