بیت بازی — Page 116
116 ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ چشمِ حزیں میں آ تو کیسے ہو میرے حبیب! کیوں پھر بھی میری دید کا مسکن اُداس ہے چھین لے ان سے زمانے کی عناں مالک وقت بنے پھرتے ہیں کم اوقات زمانے والے چشم گردُوں نے کبھی پھر نہیں دیکھے وہ لوگ آئے پہلے بھی تو تھے؛ آکے نہ جانے والے چھت اُڑ گئی؛ سایہ نہ رہا سایہ نہ رہا کتنے سروں پر ارمانوں کے دن جاتے رہے؛ پیٹھ دکھا کے اب؛ اور کالے دھن کی فراوانی سے؟ چتا کاروبار وہاں ہے سکہ نوکر شاہی کا دھندے مجزوم ہوئے سویرے چشم حزیں کے پار اُدھر؛ در دنہاں کی جھیل پر کھلتے ہیں کیوں کسے خبر حسرتوں کے کنول پڑے چاند نے پی ہوئی تھی رات ؛ ڈھل رہی تھی کائنات نور کی مے اُتر رہی تھی ؛ عرش سے جیسے تل پڑے چاروں اور بھی شہنائی بجھوں نے اک دھوم مچائی رت بھگوان میلن کی آئی، ایم کا درشن گھر گھر تھا چھٹ جائیں گے اک روز مظالم کے اندھیرے لہرائیں گے ہر آنکھ میں گلرنگ ۳۵ چمن میں وہ گلِ رعنا جو خاک سے اٹھے اکھاڑنے میں اسے تم کو کچھ ملال نہ ہو چھا چکی ہوتی جدائی کی سسکتی ہوئی رات مجھے بانہوں میں شپ عم نے لپیٹا ہوتا چارسو تم نہ دکھائی کہیں دیتے؟ اک میں اپنے ہی اشکوں میں بھیگا ہوا؟ لیٹا ہوتا چاند تھا میری نگاہوں کا مگر دیکھو تو بام و در جن کے اجالے ہیں؛ وہ گھر غیر کے ہیں ھیمی نے سوچا کیوں نہ اکیلا ہی کھاؤں میں باورچی خانہ چوری چھپے کیوں نہ جاؤں میں چارہ گروں کے غم کا چارہ دُکھیوں کا امدادی آیا راہنما بے راہرووں کا؛ راہبروں کا ہادی آیا ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ هم م ۴۵ کلام محمود چار سُو مُلک میں تھا ہو رہا شور و غوغا بلکہ سچ ہے؛ کہ نمونہ وہ قیامت کا تھا چاروں اطراف میں پھیلا تھا غرض اندھیرا لشکر پاس نے؛ ہر سمت سے تھا، آگھیرا چھوڑ دو سب عیش یارو! اور فکر دیں کرو آجکل ہرگز نہیں ہیں؛ پاؤں پھیلانے کے دن چرخ نیلی کی کمر بھی؛ ترے آگے ہے خم فیل کیا چیز ہیں؛ اور رکس کو ہیں کہتے ضیغم چکھیں گے مزا عذاب کا جب جائیں گے کہ ہاں! کوئی خدا ہے