بیت بازی

by Other Authors

Page 115 of 871

بیت بازی — Page 115

115 ۱۰ چھوڑو غرور و کبر؛ کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک؛ مرضی مولی اسی میں ہے چشم مست ہر حسیں ہردم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف؛ ہر گیسوئے خمدار کا چھو کے دامن ترا؛ ہر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم در پہ تیرے سر کو جھکایا ہم نے چنگے رہیں ہمیشہ؛ کریو نہ ان کو مندے یہ روز کر مبارک سبـــحــــان مـــن یــرانــی چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے مرے جاناں تیرا چھوڑتے ہیں دیں کو؛ اور دنیا سے کرتے ہیں پیار سو کریں وعظ ونصیحت؛ کون پچھتانے کو ہے چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیں گے؛ ترسانے کے دن چاند اور سورج نے دکھلائے ہیں دو داغ کسوف پھر زمیں بھی ہوگئی بے تاب؛ تھرانے کے دن ۱۵ چھٹ گئے شیطاں سے جو تھے تیری الفت کے اسیر جو ہوئے تیرے لئے بے برگ و بر پائی بہار چپ رہو تم ؛ دیکھ کر ان کے رسالوں میں رستم دم نہ مارو؛ گر وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار چھوڑ کر فرقاں کو ؛ آثار مخالف پر جسے سر پہ مسلم اور بخاری کے دیا ناحق کا بار ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۶ 12 اب تو ہیں اے دل کے اندھو! ۱۸ چھوڑ دو وہ راگ ؛ جس کو آسماں گاتا نہیں دیں کے گن گانے کے دن ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ چھوڑنی ہوگی تجھے دنیائے فانی ایک دن ہر کوئی مجبور ہے؛ حکم خدا کے سامنے ودرٌ عَدَن چن لیا اک عاشق خیرالرسل شیدائے دیں جس کی رگ رگ میں بھرا تھا؛ عشق اپنے یار کا چشم ظاہر میں سے پنہاں ہے ابھی اس کی چمک تیری قسمت کا ستارا بن چکا ماہ مبیں چیر کر سینے پہاڑوں کے؛ بڑھے اس کے قدم سینہ کوبی پر ہوئے مجبور اعدائے لعیں ہنس کھیل کر مشہور رخصت ہو گئے کھل گئے گا ہائے مسترت داغ حسرت دے گئے چند ہی دن کی جدائی ہے؛ یہ مانا لیکن بد مزہ ہو گئے یہ دن بخدا! تیرے بعد چاردن کلام طاهر چمکا پھر آسمان مشرق پر نام احمد مغرب میں جگمگایا ماہِ تمام احمد