تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 14
14 دیکھیں۔ایسا ہر گز نہیں چاہئے بلکہ اجماع میں چاہئے کہ قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم اور ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کرلیا جاوے۔ذرا ذراسی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و نعمت اخوت یاد دلائی ہے۔اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کرے گا۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 25-263 جدید ایڈیشن) پس یہ وہ اعلیٰ اخلاق ہیں جو نیکی اور تقویٰ میں بڑھانے والے ہیں اور گناہ سے بچاتے ہیں اور زیادتی سے روکتے ہیں۔عبادتوں سے جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے تو یہ اعلیٰ اخلاق جو ہیں ان سے پھر حقوق العباد کی طرف توجہ بھی پیدا ہوتی ہے۔پھر ایک بہت بڑی برائی کی طرف خدا تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلاتے ہوئے یہ حکم فرمایا که تأيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ - إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ولَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيْهِ