تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 24

تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 13

13 کو روکو اور اگر یہ نہیں ہوگا تو پھر یہ چیز اللہ تعالیٰ کی نظر میں ایک مومن کو سزا کا مستحق بناتی ہے۔جب غیروں کو اس قدر تاکید ہے تو اپنوں سے حسن سلوک کس قدر ہونا چاہئے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : یہ دستور ہونا چاہئے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور اُن کو طاقت دی جاوے۔یہ کس قدر نا مناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں ایک تیرنا جانتا ہے اور دوسرا نہیں تو کیا پہلے کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے۔اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدہ:3) کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ عملی، ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ۔بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو۔کوئی جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے اور اس کی یہی صورت ہے کہ اُن کی پردہ پوشی کی جاوے۔صحابہ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو، کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے۔فرمایا: ” دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہوسکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چارمل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور ان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ۔