بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 92 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 92

92 وہ ذات جسے دُور سمجھتا تھا زمانہ تو نے یہ بتایا کہ رگ جاں سے قریں ہے سب ختم ہوئے تجھ پہ کمالات نبوت تجھ سا ہو کوئی اور یہ ممکن ہی نہیں ہے جو ذات سما سکتی نہیں ارض وسماء میں دیکھو تو اسے قلب محمد میں مکیں ہے کہتا ہے شکیب عرش جسے سارا یہ عالم وہ ہ صاحب اسراء کیلئے مثلِ زمیں ہے حکیم محمد صدیق شمس کروں کیا مدحت شان محمد خدا خود ہے ثنا خوانِ محمد وہ بن جاتا ہے ممدوح بشر خود جو ہو مدحت گر شان محمد کروں کس منہ سے ذکر لالہ و گل نظر میں ہے گلستان محمد سکھاتا ہے جو انساں کو معارف وہی تو ہے دبستان محمد جو خاطر میں نہ لاتے تھے کسی کو بنے آخر غلامان محمد ارادہ قتل کا جو لے کے آئے بنے وہ جاں نثاران محمد مٹا دی سطوتِ باطل خدا نے بڑھا دی شوکت و شان محمد بوبکر و عمر عثمان و حیدر یہ تھے گلہائے بستان محمد دلیلوں کی ضرورت شمس کیا ہے محمد خود ہیں بُرہانِ محمد