بدرگاہ ذیشانؐ — Page 86
86 رکھا ہے جس نے پیشِ نظر اُسوہ رسول طالب کبھی نہ ہوگا وہ دنیائے زشت کا آنکھیں ہوئی ہیں اشک ندامت سے ہمکنار عنوان مغفرت ہے مری سرنوشت کا میں ہوں غلام شافع روز جزا مظہر کیا خوف ہو مجھے مرے اعمال زشت کا سمیع اللہ بھا گلوری عشق ہے آئینی ادراک مرا دام صیاد ہے اندیشہ بیباک مرا دیکھ ہے اشک فشاں دیدۂ غمناک مرا دامن صبر غم ہجر میں ہے چاک۔محفل دہر میں میرا کوئی غماز نہیں میرا اندازِ طبیعت بھی کوئی راز نہیں آج کیوں میری تائف پہ طبیعت آئی روبرو عشق کے کیا ہجر کی وحشت آئی دیکھ اے شوق کہ بیتابی الفت آئی میرے الفاظ سے خوشبوئے محبت آئی جی میں آتا ہے کہ کچھ عشق کے آثار کہوں اپنے دلدار سے حال دل بیمار کہوں میری آواز میں قدسی کی زبانیں غلطاں مدحت احمد مرسل میں ہوں گو ہر افشاں عظمت صاحب لولاک میں دل ہے حیراں جن کے مضمونِ نبوت کے تھا آدم عنوان وادی طور پہ موسیٰ کی امامت آئی اس کے پردے میں محمد کی بشارت آئی