بدرگاہ ذیشانؐ — Page 85
85 دل سے اگر ہو طاعت محبوب کبریا دنیا بھی عکس عالم بالا دکھائی دے دل میں اگر ہو ذکر حبیب خدا کا نور ہر آئینہ نظر کو مجلی دکھائی دے جس کو ملے مقام فنا فی الرسول کا وہ کیوں نہ ہر نگاہ کو یکتا دکھائی دے ہو جائے گر حضور کا لطف وکرم سلیم رفعت یہ عاصیوں کا ستارہ دکھائی دے (۱۷ مارچ ۱۹۸۶ء) اللہ رے فیض ساقی کوثر سرشت کا امت پہ جس نے کھول دیا در بہشت کا کایا پلٹ کے رکھ دی ہراک بدنہاد کی چولا بدل کے رکھ دیا ہر بد سرشت کا مومن بنایا مشرک و آتش پرست کو قبلہ درست کر دیا دیر و کنشت کا سمجھا دیا حضور نے انجام خیر و شر بتلایا فرق آپ نے خوب اور زشت کا مہکے ہیں باغ سیرۃ خیر البشر کے پھول نقشہ جما ہوا ہے نظر میں بہشت کا طائف کی سرزمین نے دیکھا یہ ماجرا بدلہ دعائے خیر تھا ہر سنگ و خشت کا کی جس نے دل سے طاعت محبوب کبریا دوزخ کا خوف اس کو نہ ارماں بہشت کا