بدرگاہ ذیشانؐ — Page 76
76 آفتاب احمد بسمل محمد کی توصیف کیسے بیاں ہو کہ جس کی شنا خود کر رہا ہے نہیں نعت خواں صرف جن و بشر ہی فرشتوں کے لب پر بھی صلِ علیٰ ہے نہیں مقدرت یہ کسی بھی بشر کی کہ وہ معرفت پائے اُس کی حقیقی محمد کو جس نے بنایا محمد - مقام محمد وہی جانتا ہے کہا حق تعالی نے لولاک جس کو بنے جسکی خاطر ہیں افلاک سارے وہ خیر البشر رحمت العالمیں ہے وہ فخر رسل خاتم الانبیاء ہے خدا تو نہیں کہتا اُس کو میں لیکن خدا سے جُدا بھی نہیں اک ذرا وہ کہ ہے " قاب قوسین " سے بھی وہ بڑھکر خدا سے قریب اسقدر وہ ہوا ہے مزمل مدثر وہ یسین طه رؤف و رحیم و سراجاً منیرا وہ مخلوق عالم میں سب سے ہے بہتر۔ہے مظہر خدا کا شہ دوسرا ہے - ہے معراج ایسی کہ جبریل ششدر - عجب شانِ احمد ہے اللہ اکبر سیر عرش اعلیٰ کچھ اسطرح پہنچے کہ زیر قدم سدرۃ المنتہیٰ ہے وہ مقصود عالم ہے، شاہ اہم ہے وہ محبوب داور ہے والی حشم ہے : شمس الضحیٰ بھی ہے بدر الدجی بھی وہی وجہ تخلیق ارض و سما ہے وہ عابد کہ معبود جس پر ہے نازاں وہ عاشق کہ معشوق جسکا ہے شیدا گے فاتح رزم بدر و احد وه - گہے رونق سنج ثور و حرا ہے غرض مختصر بات اتنی ہے بل کہ بعد از خدا سب سے افضل وہی ہے وہی نور اوّل، وہی نور آخر وہی ابتدا اور وہی انتہا ہے