بدرگاہ ذیشانؐ — Page 73
73 سعید احمد اعجاز مبارک اُس بندہ خدا کا وجود اُس پر ہزار رحمت کہ جس کی ہستی سے حق تعالیٰ کا ہے ظہور جلال و عظمت وہ جسکا مقصود زندگانی رضائے مولا کی شادمانی نصیب اُس کو ہے کامرانی جسے ہے اللہ سے محبت کسی بھی فرماں روائے جابر سے آج تک وہ ڈرا نہیں ہے وہ جس کے قلب سلیم پر ہے خدائے جبار کی حکومت وہ سرور کائنات جس کے لئے نمودِ جہاں ہوئی ہے وہ خاتم الانبیاء ہیں برحق کہ ختم اُن پر ہے ہر نبوت ازل سے فانوس وقت روشن انہی کے نور وجود سے ہے ہمیشہ روشن رہے گی اُن سے حریم ارض و سما کی وسعت کوئی زمانہ ہو ہر زمانے میں ہے ظہورِ جمال اُن کا رسالت مصطفیٰ کا فیض عمیم جاری ہے تا قیامت زمیں، دورِ زماں بھی اُنکا خدا بھی اُنکا جہاں بھی اُنکا نجوم شمس و قمر بھی اُن کے خدا کی تخلیق انہیں کی دولت حرم کو جاتے ہیں جانے والے ہزار ہالوگ قافلوں میں کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے نور دیدار کی مسرت بزور بازو قبول ہوتا نہیں طواف حرم، حرم میں خدا کی رحمت سے آدمی کو میسر آتی ہے یہ سعادت