بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 64 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 64

64 محمد علی مضطر زندان ہجر میں کوئی روزن نہ باب تھا وہ جبس تھا کہ سانس بھی لینا عذاب تھا تیری عنایتوں کی نہ تھی کوئی انتہا میری خطاؤں کا بھی نہ کوئی حساب تھا ہم جی رہے تھے تیری ہی رحمت کی گود میں سانیہ تمن ترے ہی کرم کا سحاب تھا تیرے ہی نور سے تھیں منور صداقتیں تو ہی تھا ماہتاب تو ہی آفتاب تھا خوشبوؤں میں بھی تیری ہی خوشبو تھی دلنواز پھولوں میں پھول تیرے ہی رخ کا گلاب تھا نیکی تیرے بغیر گناہ عظیم تھی لمحہ جو تیری یاد میں گزرا ثواب تھا اے حسن تام علم بھی تو تھا عمل بھی تو لوح و قلم بھی تو ہی تھا تو ہی کتاب تھا