بدرسوم و بدعات — Page 17
20 19 محدثات میں داخل ہوگی۔رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبر میں لگاوے۔دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔“ درود اور وظائف ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 519) ”ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پا سکتے ہیں آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعا ئیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔سو تم ان سے پر ہیز کرو۔ان لوگوں نے آنحضرت مے کے خاتم الانبیاء ہونے کی مہر کو توڑنا چاہا۔گویا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے۔تم یا درکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ علیہ کے فرمان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ 1 سیفی اسم مونث ہے۔اس سے مراد وہ اسم جلالی ہے جو کسی دشمن کے دفعیہ کے واسطے نگی تلوار کی پشت پر مقررہ مقدار کے موافق پڑھ پڑھ کر پھونکتے ہیں اور اس دشمن کا ہلاک ہو جانا تصور کرتے ہیں۔جب یہ اسم الٹا اپنی تباہی اور بربادی کا موجب ہو تو اسے سیفی کا الٹ جانا کہتے ہیں۔نیز یہ ایک دعا کا نام ہے جس میں نہایت جلال برستا ہے۔مجاز اجا دوٹو نے کو بھی کہتے ہیں۔شاعر کہتا ہے۔مجھ پہ افلاک سے میری ہی بلائیں آئی سیفیاں پڑھتے ہوئے پھر سے دعا ئیں آئیں بہادرشاہ ظفر کہتا ہے (داغ دہلوی) کوئی پڑھتا ہے سیفی میرا دشمن کوئی کھینچے پھرے ہے سیف آہن (بہادر شاہ ظفر) (فرہنگ آصفیه مولفہ مولوی سید احمد دہلوی زیر لفظ سیفی) جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی نہیں۔بھولا ہوا ہے وہ جو ان راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔نا کام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں بلکہ اور اور راہوں سے اسے تلاش کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 103) میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں قسم قسم کی خراب رسمیں اور نالائق عادتیں جن سے ایمان جاتا رہتا ہے۔گلے کا رہا ہو رہی ہیں۔اور اُن بری رسموں اور خلاف شرع کاموں سے یہ لوگ ایسا پیار کرتے ہیں جو نیک اور دینداری کے کاموں سے کرنا چاہیے۔ہر چند سمجھایا گیا، کچھ سنتے نہیں۔ہر چند ڈرایا گیا۔کچھ ڈرتے نہیں اب چونکہ موت کا کچھ اعتبار نہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب کے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں۔اس لئے ہمان لوگوں کے برا ماننے اور برا کہنے اور ستانے اور دکھ دینے سے بالکل لا پروا ہو کر محض ہمدردی کی راہ سے حق نصیحت پورا کرنے کے لئے بذریعہ اس اشتہار کے ان سب کو اور دوسری مسلمان بہنوں کو خبر دار کرنا چاہا تا ہماری گردن پر کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے۔اور قیامت کو کوئی نہ کہہ سکے نہ ہم کو کسی نے نہیں سمجھایا۔اور سیدھا راہ نہیں بتایا۔سو آج ہم کھول کر بآواز کہہ دیتے ہیں کہ سیدھا راہ جس سے انسان بہشت میں داخل ہوتا ہے، یہی ہے کہ شرک اور رسم پرستی کے طریقوں کو چھوڑ کر دین ( حق ) کی راہ اختیار کی جائے۔اور جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اس کے رسول نے ہدایت کی ہے اس راہ سے نہ بائیں طرف منہ پھیریں نہ دائیں۔اور ٹھیک ٹھیک اسی راہ پر قدم ماریں۔اور اس کے برخلاف کسی راہ کو اختیار نہ کریں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 84) شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راه احمد مختار ہیں (در مشین ص 14) |