ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 92
92 قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں سب سے زیادہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا ذکر ملتا ہے۔سورۃ آل عمران آیت 56 کا ترجمہ ہے: ”اے عیسی ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں۔“ رفع سے مراد : درجہ کی بلندی ہوتی ہے یعنی روحانی رفعت عطا کرنا۔سورۃ المائدہ آیت 76 کا ترجمہ ہے: مسیح ابن مریم ایک رسول ہی تو ہے اس سے پہلے جتنے رسول تھے سب کے سب گزر چکے ہیں اور اس کی ماں صدیقہ تھی۔دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ہوتی۔فرمایا:- دونوں ماں، بیٹا کی حیات بھی ایک جیسی تھی وفات بھی ایک جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجرانیوں کو توحید کا پیغام دیتے ہوئے ” کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا رب زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا مگر عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔“ وو (اسباب النزول سفحه 53 از حضرت ابوالحسن الواحدی طبع اولی 1959 ء مطبع مصطفی البابی مصر) سنت الہی کے مطابق نبی کی عمر آخری نبی کی عمر سے نصف ہوتی ہے اس سنت کے مطابق سلسلہ موسوی کے آخری نبی حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر 120 سال تھی۔“ (کنز العمال جلد 6 ص 120 ) أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے