ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 66
66 ملک سے دوسرے ملک کی سیر کرتے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے۔(کنز العمال جلد 2 صفحہ 71) اور پھر اگلے دن نئی منزل کی طرف چل پڑتے تھے۔اس طرح سیر و سیاحت کرتے ہوئے اپنی گمشدہ بھیڑوں کے پاس پہنچے۔جس شام یسوع اور اس کے شاگردوں کی ملاقات ہوئی ان میں ایک شاگرد تھوما موجود نہیں تھا۔جب دوسرے شاگردوں نے اسے مسیح کے بارے میں سب کچھ بتایا تو اس نے کہا کہ جب تک میں اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں اور زخموں کے چھیدوں میں اپنی انگلیاں ڈال کر نہ دیکھ لوں اور اپنے ہاتھ کو اس کی پسلی میں نہ ڈال لوں یقین نہ کروں گا۔چنانچہ ایک اور موقع پر جب تھوما سے مسیح علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کے جسم کو چھو چھو کر زخموں کو دیکھا۔کئی اور لوگوں نے بھی مسیح علیہ السلام کو سڑک پر جاتے دیکھا مگر یہودیوں کا خوف اتنا غالب تھا کہ اپنی زبان سے نہ کہہ سکتے تھے اس لئے راز ہی رہتا۔تقریباً ڈیڑھ سال آپ حواریوں کے ساتھ رہے۔بے سروسامانی، سفر اور خدائی رحمتوں کے نشان دیکھ دیکھ کر حضرت مسیح علیہ السلام اپنے خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ دعائیں کرتے اور انہیں اپنا یہ فرض یاد آ جاتا کہ بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کو بھی پیغامِ حق پہنچانا تھا اس لئے آپ نے مشرق کی طرف سفر شروع کیا اور چلتے چلتے دمشق پہنچے۔حضرت مسیح علیہ السلام دمشق میں : آپ دمشق میں کافی عرصہ رہے۔بہت سے لوگوں نے آپ کو خدا کا نبی مان لیا۔دمشق میں آپ کا ایک شاگرد جو بہت مشہور ہوا حنانیاس تھا۔