ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 61
61 یہ کو بہت مفید ہے یوسف آرمیتیاہ تو اس وقت بھی آنسو بہا رہے تھے جس وقت حکیم نقاد یمس مسیح علیہ السلام کے کانوں میں پھونک پھونک کر مسیح علیہ السلام کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔یوسف کہتا تھا کہ یسوع کے بچنے کی کوئی امید نہیں حکیم نقاد یمس بار بارتسلی دیتا تھا کہ یسوع کا دل حرکت کر رہا ہے بچنے کی امید رکھو۔تیسرے دن صبح کو مسیح نے آنکھ کھولی اور وہ ہوش میں آ گئے جونہی ان کی آنکھ کھل گئی یوسف آرمیتیاہ نے ان کو گلے سے لگا لیا اس کی اور حکیم نقادیمس کی خوشیوں کی کوئی انتہا نہیں رہی ہوش میں آنے پر مسیح نے کہا کہ میں کہاں آ گیا ہوں اس پر حکیم موصوف نے انہیں بتایا کہ وہ کہاں ہیں اور کس طرح یہاں پہنچے ہیں۔اس کے بعد آپ کو یہاں سے قریب ہی ایک مخفی مکان پر لے جایا گیا جو ایسینی فرقہ کے کسی ممبر کا تھا وہاں آپ کا علاج جاری رہا یہاں تک کہ آپ چند دنوں میں چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے آپ چھ چھپ کر خفیہ راستوں سے حواریوں کو ملتے رہے بعض دفعہ یہودیوں نے آپ کو پہچان بھی لیا لیکن فرقہ ایسینی کے احباب کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے رہے۔سردار کا ہن کیفا جس نے آپ کو صلیبی موت کی سزا دی تھی، کو بھی علم ہو گیا کہ یوسف آرمیتیاہ حکیم نقادیمس اور پیلاطوس نے مل کر سازش کر کے مسیح کو بچا لیا ہے۔یہود کے دباؤ کے باعث یوسف آرمیتیاہ کو قید کر لیا گیا۔ملک میں منیح کے خلاف بہت شورش تھی اس لئے ایسینی فرقہ کے احباب نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ یہاں سے کسی اور جگہ تشریف لے جائیں ورنہ فساد کا بہت اندیشہ ہے۔آپ سفر کے لئے تیار ہو گئے۔آپ نے فرمایا مجھے خدا نے ہاتھ بڑھا کر دشمنوں کے پنجے سے بچا لیا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ مجھے کسی خاص