ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 44 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 44

44 جانتا ہوں اسی طرح میں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں اور میری بھیڑیں مجھے جانتی ہیں اور میں بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہوں اور میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں مجھے اُن کو بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی۔پھر ایک ہی گلہ ہوگا اور ایک ہی چرواہا ہوگا“۔(یوحنا باب 10 : 16،14) ارض فلسطین میں بنی اسرائیل کے صرف دو قبائل آباد تھے باقی دس قبیلے عراق، ایران، افغانستان اور ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے۔آپ رسولاً الی بنی اسرائیل تھے۔اس لئے اکثر ان افراد کی تلاش میں نکلنے کا سوچتے تھے جن تک پیغام پہنچانا خدا تعالیٰ کی طرف سے ان پر فرض تھا۔اس لئے بعض باتیں ان کے منہ سے ایسی نکلیں جو انجیل میں درج ہیں اور مستقبل کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔متی باب 14 آیت 40 میں لکھا ہے۔” جیسا که یونس تین رات اور تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابنِ آدم تین دن رات زمین کے اندر رہے گا۔“ متی باب 26 آیت 32 میں لکھا۔ہے۔لیکن میں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے آگے گلیل کو جاؤں گا۔“ ان ارشادات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کو بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کی تلاش میں کسی دور دراز کے علاقے کے سفر کا خیال رہتا تھا ایک نبی کو اپنے مولا کریم کے ارشاد کے مطابق عمل کرنا اپنی اولین ترجیح معلوم ہوتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا حقیقی مشن حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بشارت: