ایک عزیز کے نام خط — Page 96
ہوں۔اگر دن کا اس طرح سے آغاز ہوگا اور اس طرح دن گزرے گا اور ختم ہوگا اور رات کو بھی کروٹ بدلنے پر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے گا اور رات کا کچھ حصہ نوافل میں صرف ہوگا تو انسان کی تمام زندگی گویا ایک مسلسل عبادت ہو جائے گی۔اور دراصل یہی حالت ایک حقیقی مومن کی زندگی کی ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے ایسی ہی زندگی کی تو فیق عطاء فرمائے۔آمین۔اب سنو کہ نماز کی تیاری کس طرح کی جاتی ہے۔پہلا حصہ اس تیاری کا ظاہری صفائی کا ہے۔اوّل تو انسان کو چاہئے کہ اپنے لباس کو صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھے۔کیونکہ گو در بارالہی میں شاہ و گدا سب یکساں ہیں اور وہی زیادہ عزت پاتا ہے جس کا دل سب سے زیادہ عشق الہی سے معمور ہوتا ہے اور اس دربار میں کوئی ظاہری تکلف نہیں۔لیکن اس دربار کے بھی بعض آداب ہیں اور ان میں سے سب سے پہلا امر ظاہری صفائی اور پاکیزگی ہے۔لباس کی صفائی اور پاکیزگی کے بعد انسان کو اپنے بدن کی صفائی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔رسول اللہ ﷺ نے مسواک کا استعمال ہر مومن کے لئے ضروری قرار دیا ہے اور اس کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ امر میری امت پر شاید بوجھ ہو جائے تو میں ہر نماز کے وقت مسواک لازم قرار دیتا۔وضو کی تفاصیل تو تم جانتے ہی ہو۔ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اس قدر واضح کر دینا مناسب ہے کہ وضو کے فوائد اور اغراض میں سے بعض اعضاء کی ظاہری صفائی بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ وضو گویا ایک ظاہری نشان باطنی صفائی کا بھی ہے۔ایک نمازی جب نماز کی نیت سے وضو کرتا ہے تو جیسے وہ ظاہری اعضاء کو صاف کرتا ہے ویسی ہی وہ باطنی صفائی کی طرف بھی توجہ کرتا ہے اور اپنے دل و دماغ کو دنیاوی خیالات سے پاک کرتا ہے اور اپنی روح کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔اور یوں بھی جسم کے جوارح کو پانی سے دھونے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ انسان کے خیالات کا انتشار دور ہو جاتا ہے اور اس کا ذہن ایک طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور کاروبار اور بدنی محنت کی کوفت دور ہو کر ایک شگفتگی 96