ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 95 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 95

انسان کو چاہئے کہ ان اوقات کا منتظر رہے اور وقت آنے پر عاشقانہ شوق سے دربار کے لئے تیاری کرے۔اپنے بدن کی صفائی کرے۔صاف اور پاکیزہ لباس ہو اور پھر دربار کے آداب کے مطابق بر وقت اور با ادب حاضر ہو جائے اور جب تک دربار سے رخصت کی اجازت نہ مل جائے حاضر رہے اور اپنی عرض معروضات پیش کرے اور اس راز و نیاز کے موقع سے فائدہ اٹھا کر قرب الہی کی منازل طے کرنے کی کوشش کرے۔اور جب ایک دربار سے رخصت کی اجازت ملے تو پھر اپنے معمولی کاروبار کی طرف متوجہ ہو جائے۔لیکن جس دربار سے ابھی واپس آیا ہے اس کا ذوق دل و دماغ کو معطر کر رہا ہو اور دوسرے دربار میں بلائے جانے کی انتظار میں ہو۔اور دل میں ایک شوق اور ولولہ اور بے صبری ہو کہ کب پھر دربار میں بلاوا ہو اور میں بصد شوق پھر حاضر ہو جاؤں۔اور اس درمیانی وقفہ میں گو دست با کار ہومگر دل بایار ہو۔اور محبوب حقیقی کا نام دل سے اٹھ اٹھ کر بے اختیار بار بار زبان پر آئے اور اس طرح گویا نمازوں کے درمیان بھی ذکر الہی جاری رہے۔جیسے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا ہے: عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشقِ صنم ، لب پہ مگر نام نہ ہو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور ہوتا رہے اور اس کے احسانات کی یاد بار بار کی جائے اور اگر فجر کی نماز کے بعد کا وقت ہے تو صحیفہ الہی یعنی قرآن مجید میں سے جس قدر میسر ہو پڑھا جائے اور اس پر غور کیا جائے۔اور پھر اگر موقع ہو تو انسان دعا میں لگ جائے۔اور دعا کی مثال نماز کے مقابل میں ایسی ہے کہ اصل دعا کا وقت تو نماز ہے جب کہ انسان در بارالہی میں حاضر ہوتا ہے اور ہر ایک درباری کو حاضری کا حکم ہے۔لیکن بھلا ایک عاشق صادق اتنے پر کب صبر کر سکتا ہے۔وہ درمیان میں بھی بے قرار ہو کر خود جا کر دروازہ پر دستک دیتا ہے اور دعا کرتا اور گڑ گڑاتا اور آہ وزاری کرتا ہے۔یہ گویا نماز کے علاوہ اوقات کا ذکر الہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں ہر وقت اپنے بندوں کے قریب ہوں۔اور ہر وقت ان کی پکار کو سنتا 95