ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 57 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 57

فلاں قسم کی دھات یا تیل یا گیس مل سکتی ہے۔اور بعض دفعہ اس قسم کی چٹانیں یار بیت وغیرہ کئی سو یا کئی ہزار میل کے فاصلہ پر ہوتی ہیں اور ماہرین کا اندازہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کے نیچے ہی نیچے ان کا آپس میں تعلق ہے اور ایک لمبا سلسلہ ایسی چٹانوں یاریت یا مٹی کا چلا گیا ہے جسے ہم ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ایک غیر محد و دخترانه تو یہی حال اللہ تعالیٰ کے کلام کا ہے۔اس کے مطالب اور ان کے انواع کا شمار اور حد نہیں۔اور وہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک زندہ عالم ہے جس کے خزانے ہمیشہ کھلتے رہیں گے۔ایک بے پر وانظر سے دیکھنے والے کی نگاہ میں اس کے اندر کوئی ترتیب نہیں۔ایک عام تدبر کرنیوالے کی نگاہ میں اس کے اندر ایک ترتیب ہے۔ایک گہرے تدبر کرنیوالے کی نگاہ میں اس کے اندر ایک اور ترتیب ہے اور مبصرین اور ماہرین کی نگاہوں میں تو اس کے اندر کئی جہان بس رہے ہیں۔اور ہر لحظہ نئے علوم اور نئے خزانوں کا انکشاف ہو رہا ہے۔اور جوں جوں یہ انکشاف ہوتا ہے اس کے مطالب میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی بلکہ آگے اور وسیع در وسیع مطالب نظر آنے لگتے ہیں اور یہ ماہرین محسوس کرنے لگ جاتے ہیں کہ بے شک اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور پھر سات اور سمندروں کا ان میں اضافہ ہو جائے اور تمام درختوں کی قلمیں بنائی جائیں تو یہ سیاہی اور قلمیں لکھتے لکھتے ختم ہو جائیں گی لیکن اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہونگے۔یہ مثال جو میں نے دی ہے اس لئے بھی موزوں ہے کہ کائنات اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فعل اور اس کے قول میں نہ صرف مقابلہ یا اختلاف نہیں بلکہ ان کا آپس میں گہرا جوڑ اور رشتہ ہے، اور ہونا چاہئے۔اور اسی لئے بار بار قرآن کریم میں زمین اور آسمان اور چاند اور سورج اور ان کی پیدائش اور ان کے فرائض اور 57