ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 54 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 54

مطابق ہوتی تھی۔قرآن کریم کے نزول کے وقت مسلمانوں کی کوئی جماعت پہلے سے موجو نہیں تھی۔نئی جماعت تیار کرنی تھی اور اول ان کے دلوں میں ایمان راسخ کرنا تھا اور پھر انہیں بتدریج عملاً مسلمان بنانا مقصود تھا۔اس لئے ایک نئی جماعت کے بنانے اور اس کی تدریجی تربیت کے لئے جس ترتیب کی ضرورت تھی اس ترتیب میں قرآن کریم نازل ہوا۔چنانچہ جن آیات اور سورتوں کا تعلق ایمان اور نشانات اور پیشگوئیوں کے ساتھ ہے وہ پہلے نازل ہوئیں اور جن کا تعلق تفصیلی احکام کے ساتھ ہے وہ بعد میں نازل ہوئیں۔لیکن جب جماعت قائم ہو چکی اور ان کے ایمان راسخ ہو گئے اور پھر ان کی نسل جاری ہوگئی تو پھر ایک دوسری حالت پیدا ہو گئی۔اور اس حالت میں مسلمانوں کی تربیت سے تعلق رکھنے والے احکام کا حصہ پہلے کر دیا گیا اور ایمان کی تائید میں دلائل اور پیشگوئیوں کا حصہ بعد میں۔یہ تو قرآن کریم کی ظاہری ترتیب کی صورت ہے۔معنوی ترتیب کی دریافت کے لئے تدبر کی ضرورت ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ اگر ہم ریل گاڑی میں سفر کر رہے ہوں اور محض سرسری نظر سے کبھی کبھی اردگرد کے نظارہ کو دیکھ لیں تو ہمیں کسی قسم کی کوئی ترتیب نظر نہیں آتی۔لیکن اگر ہم ملک کا جغرافیہ جانتے ہوں اور ہمیں زمین کے نشیب وفراز اور دیگر خصوصیات کے مطالعہ کے ساتھ کسی قدر دلچسپی ہو تو ہمیں ترتیب بھی نظر آجاتی ہے اور ہم اس ترتیب کے مطالعہ سے اپنے علم میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں اور اس سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔اور یہ اعتراض بھی کہ ایک ہی جگہ ترتیب وار ہر مسئلہ کے متعلق احکام اور ان کے تائیدی دلائل جمع کیوں نہیں کر دیئے ، قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔میں بیان کر چکا ہوں کہ قرآن کریم مجموعہ ہے کامل ہدایت کا اور اس میں ہر زمانہ کے حالات کے مطابق تعلیم اور ہدایت رکھ دی گئی ہے۔اسی طور پر جیسے زمین اور باقی کائنات میں انسان کی ہر قسم کی ترقی کے سامان رکھ دیئے گئے ہیں۔قرآن کریم محض دلائل کا مجموعہ یا فہرست نہیں ہے بلکہ ایک زندہ کلام ہے جس کے تازہ بتازہ جو ہر ہر زمانہ میں کھلتے رہتے ہیں۔اول تو اس کے سمجھنے کے لئے پاکیزگی قلب اور عمل شرط ہے اور پھر تدبر اور تفقہ ضروری ہے کہ اس سے انسان کی دماغی اور 54