ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 40 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 40

بعض صفات اللہ تعالیٰ کی ایسی ہیں کہ وہ بالکل الوہیت سے مخصوص ہیں۔مثلاً یہ کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔یا یہ کہ نہ اس کا باپ ہے اور نہ اس کی اولاد۔ایسی صفات کلیتہ اللہ تعالیٰ میں اور انسان میں تمیز اور فرق کرنے والی ہیں۔مثلاً یہ دونوں صفات حقیقی توحید کا نتیجہ ہیں۔اسی طرح کامل توحید کے نتیجہ میں یہ بھی صفت ہے کہ اللہ تعالی پر نہ نیند آتی ہے نہ سستی نہ غفلت۔اب انسان کے لئے یہ تو ضروری ہے کہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں وہ ایسی کمزوریوں کو پیدا نہ ہونے دے۔لیکن بشریت کے لحاظ سے ایسی حالتیں اس کے لئے لازم بھی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے تقاضوں کے پورا کرنے کا خود انتظام فرمایا ہے اور یہ اس کے انعامات میں سے ہے کہ انسان نیند اور غنودگی اور آرام کی ضرورت محسوس کرے۔کیونکہ انسان فانی ہے اور ایک فانی ہستی کے لئے لازم ہے کہ وہ کام کرنے کے بعد آرام کرے ورنہ وہ جلد ختم ہو جائے گی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے انعامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جہاں میں نے دن کو روشن بنایا ہے کہ تم کام کر سکو اور روزی مہیا کرو وہاں رات کو اندھیرا بنایا ہے تا تمہیں آرام کا عمدہ موقع میسر آئے ور نہ تم ہلاک ہو جاتے۔پاکیزہ زندگی پھر یہ تو ظاہر بات ہے کہ انسان کے قومی اور اسکی استعداد میں اور اس کا دائرہ عمل محدود ہیں اس لئے وہ اپنے محدود حلقہ اور دائرہ عمل کے اندر ہی ان صفات کا مظہر بن سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات صرف عکسی طور پر اس کے اندر جلوہ گر ہوسکتی ہیں۔مثلاً اللہ تعالی قدوس ہے۔انسان کو بھی چاہیئے کہ پاکیزگی کی راہیں اختیار کرے اور اپنے دل اور دماغ ، خیالات اور اعمال سب کو پاکیزہ بنانے اور رکھنے کی کوشش کرے۔اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ انسان گناہ میں پیدا ہو اور گناہ سے بچنے کی طاقت نہیں رکھتا۔بلکہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کے ہر بچہ 40