ایک عزیز کے نام خط — Page 39
فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ یعنی نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ہر انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے جو ہر کو کمال تک پہنچائے اور اس رنگ میں یکتائی کے حصول کی کوشش کرے جیسے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا ہے میں واحد کا متوالا ہوں اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے تو میری آنکھ کا تارا ہے پھر ایک ایسی ہی صفت اللہ تعالیٰ کی صد ہونے کی ہے کہ وہ اپنی ذات میں قائم ہے اور اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔اب چونکہ انسان اور تمام دیگر جنسیں اور تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کے سہارے پر قائم ہیں اس لئے اس صفت کے اولین مفہوم کے رنگ میں تو انسان صد نہیں بن سکتا۔لیکن وہ یہ کوشش کر سکتا ہے کہ اس کا اصل تو کل اور سہارا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو اور اس کے سوا اور کسی پر نہ ہو۔اور اسی ضمن میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ اس صفت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ انسان کسی سے سوال نہ کرے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے سوال کیا آپ نے اسے کچھ دیدیا اس نے پھر مانگا آپ نے پھر دیا۔اس نے پھر مانگا آپ نے پھر دیا۔جب اس نے چوتھی بارسوال کیا تو آپ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی بات بتا تا ہوں جو ان سب چیزوں سے افضل ہے اور وہ یہ کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے پس سوال کی عادت ترک کرو۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں عہد کرتا ہوں کہ آئندہ سوال نہیں کرونگا۔بعد میں وہ شخص اچھا متمول ہو گیا۔ایک دفعہ کسی موقع پر وہ گھوڑے پر سوار تھا کہ اس کا کوڑا نیچے گر گیا۔ایک شخص جو قریب تھا اس نے چاہا کہ کوڑا اٹھا کر اس شخص کو دیدے لیکن اس شخص نے اسے خدا کی قسم دی کہ تم کوڑا مجھے اٹھا کرمت دو۔میں خود گھوڑے سے اُتر کر اٹھاؤں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عہد کیا تھا کہ میں سوال نہیں کرونگا۔اور اگر میں تمہیں کوڑا اٹھانے دوں تو گویا یہ بھی ایک قسم کا سوال ہی ہو جاتا ہے۔سورة البقرة - آيت 149 39