ایک عزیز کے نام خط — Page 31
گورے اور کالے اور زرد اور بادامی اور حبشی کی تفریق مٹ جاتی ہے۔پھر نہ کوئی برہمن رہتا پیسے نہ چھتری نہ ولیش نہ شودر۔ہاں جان پہچان کی خاطر ملکی اور قومی تقسیمیں رہ جاتی ہیں۔لیکن یہ قسیمیں عزت اور ذلت کا معیار نہیں ہوتیں۔عزت کا اصل معیار خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کا خوف بن جاتے ہیں۔رب العالمين اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ رب العالمین ہے۔یعنی تمام کائنات کو ادنیٰ حالت سے تبد ریج ترقی دے کر اعلیٰ حالت کی طرف لے جاتا ہے۔کسی ایک خاص قوم یا گوت یا ملک یا نسل کو نہیں بلکہ سب کو۔اس صفت کے ماتحت بھی سب ملکی اور قومی اور نسلی امتیاز مٹ گئے۔سورج، چاند، ستارے، آسمان ، بادل، بارش، دریا،سمندر، پہاڑ غرض دنیاوی ترقی کے سب سامان سب کے لئے ہیں۔اور اسی طرح نبوت، رسالت، رویا، کشوف ، وحی، الہام، روحانی ترقی کے سب سامان بھی سب کے لئے تھے اور ہیں۔اس ایک ہی اس صفت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول بصورت وحی اور الہام سب قوموں اور ملکوں میں ہؤا ہے۔رحمن پھر وہ رحمن ہے۔یعنی اس نے ہماری ترقی کے لئے جس قد ر سامان ضروری تھے وہ بغیر ہماری طرف سے کوئی عمل صادر ہونے کے بلکہ پیشتر اسکے کہ ہماری طرف سے کوئی عمل صادر ہوتی کہ ہماری پیدائش سے بھی پیشتر مہیا فرمائے۔زمین بنائی اور اس میں مختلف قسم کے خواص اور طاقتیں رکھیں۔سورج چاند ستارے اور آسمان بنائے۔اور ان میں قسم قسم کے 31