ایک عزیز کے نام خط — Page 133
سود کی ممانعت پھر اسلام نے سُود منع فرمایا ہے کیونکہ اول تو اس سے یہ قباحت پیدا ہوتی ہے کہ انسانی ہمدردی اور اخوت کا احساس آہستہ آہستہ مٹ جاتا ہے پھر سود پر لین دین کرنے کے نتیجہ میں دولت سمٹ کر چند آدمیوں کے ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے اور باقی حصہ ملک یا سوسائٹی کا مالی طور پر اُنکی غلامی میں آجاتا ہے۔بے شک چند لوگ تو اس کے نتیجہ میں کروڑ پتی ہو جاتے ہیں لیکن اس کے مقابل پر کروڑوں لوگ مفلس اور نا داررہ جاتے ہیں اور اسلام کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ دولت ایک طبقہ کے ہاتھوں میں جمع نہ ہو جائے بلکہ مختلف طبقوں کے درمیان چکر لگاتی رہے اور زیادہ سے زیادہ افراد میں تقسیم ہوتی رہے۔پھر جو لوگ استعداد اور قابلیت رکھتے ہوں اُس کو بڑھالیں اور یہ پھر تقسیم ہو جائے۔قرآن کریم میں یہ وعید بھی آتا ہے کہ سود پر لین دین کے نتیجہ میں جنگ ہوتی ہے۔چنانچہ پچھلی جنگ کے موقعہ پر یہ امر مشاہدہ میں آچکا ہے کہ اگر سُود پر قرضہ لینے کا رواج نہ ہوتا تو جنگ اس قدر بھی نہ چل سکتی۔اور موجودہ ایام میں بھی جو آئندہ ایک خوفناک جنگ کی تیاری کے لئے بے انداز سامانِ حرب تیار ہورہا ہے اس کی بناء بھی زیادہ تر سودی قرضہ پر ہی ہے۔اگر یہ رواج نہ ہو تو مختلف اقوام کی جنگی تیاری بہت ہی ادنی پیمانہ پر ہو جس سے نہ تو اس قدر مالی بوجھ قوموں پر پڑے اور نہ اس قدر تباہی کا خطرہ پیدا ہو۔لیکن اس سے یہ قیاس نہ کر لینا چاہیے کہ اسلام نے قرضہ لینے یا دینے کو ہی منع کر دیا ہے یار بہن کا طریق منع قرار دیا ہے یا تجارتی شراکتوں سے منع فرمایا ہے بلکہ اسلام نے جائز ضرورت کے لئے سود سے بچتے ہوئے قرضہ جائز رکھا ہے۔مگر قرضہ سے متعلق اسلام کا حکم ہے کہ وہ تحریر میں آنا چاہئے، خواہ تھوڑی رقم ہو خواہ بڑی اور اس پر شہادت ثبت ہونی چاہیے۔اور ادائیگی قرضہ کی معیاد مقرر ہونی چاہئے اور یہ تحریر مقروض کے کہنے اور اسکے لکھوانے پرلکھی جانی چاہیے۔اور اگر مقروض نابالغ یا فاتر العقل ہو تو اس کے ولی کے لکھوانے پر لکھی جانی 133