ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 129 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 129

ساتھ حسنِ سلوک کی سخت تاکید کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا اُتٍ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ۖ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا۔یعنی تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ تم سوا اُس کے اور کسی کی عبادت نہ کرو اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کے ساتھ پیش آؤ۔اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو تم انہیں اُف تک نہ کہو۔اور ان کے ساتھ سختی سے کلام نہ کرو اور اُن کے ساتھ محبت اور شفقت کے ساتھ کلام کرو۔اور ان کے لئے رحمت کے ساتھ نرمی اور بجز کے پر بچھائے رکھو۔اور ان کے لئے یہ دُعا کرتے رہو کہ اے میرے رب تو ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے میری پرورش اور تربیت کی جبکہ میں چھوٹا سا تھا اور بالکل بے بس تھا۔ان آیات میں ایک امر خصوصیت سے قابل غور ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کی فرمانبرداری اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو عین اپنی توحید کے بعد رکھا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک والدین کے احترام اور ان کی خدمت کو بڑا درجہ حاصل ہے۔اسی طرح درجہ بدرجہ سب رشتہ داروں کے ساتھ اسلام میں حسن سلوک کی تعلیم ہے درجہ رشتہ ساتھ بلکہ تم دیکھ چکے ہو کہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ اخلاق کی تعریف ہی اللہ تعالے نے یہ فرمائی ہے کہ نیکی انسان کی سرشت میں اس طرح سرایت کر جائے جیسے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی خواہش قدرتی طور پر انسان کے اندر جوش زن ہوتی ہے۔چنانچہ فرمایا: وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتْمَى وَالْمَسَكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ۔یعنی والدین کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آؤ اور رشتہ داروں کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور قریب کے پڑوسی کے ساتھ اور دُور سورة بنی اسرائیل۔آیات 25-24 سورة النساء - آیت 37 129