ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 117 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 117

طے کی ہے۔اور دوسری اور زیادہ اہم منزل طے کرنی اس کے لئے باقی ہے اور وہ کسب خیر کی منزل ہے۔یعنی عدل و احسان اور ایتائے ذی القربی کی منزل یا منازل۔عدل سے مراد یہ ہے کہ انسان نیک سلوک کے بدلہ میں کم سے کم برابری کا نیک سلوک لوگوں کے ساتھ کرے۔یعنی اس کے اخلاق کی اس قدر تربیت اور اصلاح ہو چکی ہو کہ وہ کم سے کم برابری کے سلوک کا عادی ہو جائے اور برے سلوک کے مقابلہ میں اس کی نسبت بڑھ کر سختی نہ کرے۔احسان سے مراد یہ ہے کہ ایک انسان کے اخلاق اس قدر ترقی یافتہ ہو جائیں کہ وہ ہر نیک سلوک کے مقابلہ میں اس سے بڑھ کر سلوک کرے اور برے سلوک کی مدافعت نیک سلوک کے ساتھ کرے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم برے سلوک کا بدلہ نیک سلوک سے دو۔اس طرح تم دیکھو گے تمہارا دشمن تمہارا نہایت گہرا دوست بن جائے گا۔اور ایتائے ذی القربی سے مراد یہ ہے کہ انسان سے نیکی کسی بدلہ کہ خیال سے صادر نہ ہو بلکہ اس کی طینت کا جزو بن جائے۔اور خواہ اور لوگ اس کے ساتھ کیسا ہی سلوک کریں اس کی طرف سے ہمیشہ نیک افعال ہی صادر ہوں۔یعنی نیک اعمال اس سے اس طور پر صادر ہوں جیسے ایک انسان قدرتی جذبہ کے ماتحت اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے سلوک کرتا ہے۔اخلاق کے اس درجہ کی مثال کسی نے یوں بھی دی ہے کہ شہد کے چھتہ کوکوئی شخص پتھر بھی مارے تو اس سے شہد ہی گرتا ہے کیونکہ اس کے اندر شہد ہی شہد ہے۔اس مرحلہ پر پہنچ کر انسان کی سرشت میں نیکی ہی نیکی سرایت کر جاتی ہے اور بدی کا کوئی پہلو باقی نہیں رہتا۔غور کرو کہ اسلام نے اخلاقی ترقی کے اصول کیسے عمدہ اور دلچسپ طور پر وضع کئے ہیں۔پہلے حدود اللہ قائم کر کے جائز اور ناجائز کی تمیز پیدا کر دی یعنی محل اور غیر محل کی تمیز قائم کی پھر اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کی وضاحت کر کے نیت اور خیال اور ارادہ کی اصلاح کی اور پھر ہر فعل کو نیک بنانے کا اصول سکھایا اور پھر اخلاق کے مدارج کی تقسیم کر کے گویا انسانوں کی اخلاقی جماعت بندی کر دی جس کے نتیجہ میں ہر انسان اپنا امتحان خود لے سکتا ہے 117