ایک عزیز کے نام خط — Page 116
ان کو روکا نہ جائے تو ان سے برے افعال صادر ہونے کا اندیشہ ہے۔اور اس لحاظ سے یہ افعال خود انسان کے لئے اخلاقی اور روحانی لحاظ سے مضر ہیں۔اس کے ماتحت زیادہ تر گندے اور مکروہ اور ناپسندیدہ خیالات اور تصورات آتے ہیں۔جیسا میں نے ذکر کیا ہے اسلام نے خیالات اور تصورات اور ارادوں کو بھی اخلاقی افعال میں شامل کیا ہے کیونکہ یہ ظاہری اعمال کا منبع ہوتے ہیں۔اب ہر انسان اس معیار کے لحاظ سے اپنے اعمال اور اخلاق کی پڑتال کر سکتا ہے اور ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔اور پھر اس اصلاح اور ترقی کی رفتار کا اندازہ کر سکتا ہے۔یہ لازم نہیں ہے کہ انسان پہلے یہ کوشش کرے کہ بنی کے درجہ سے پورے طور پر نکل آئے اور پھر منکر کی طرف متوجہ ہو۔یا پہلے منکر کو پورے طور پر ترک کر دے اور پھر فحشاء کی طرف توجہ کرے۔وہ ایک ہی وقت میں تمام درجوں کی اصلاح شروع کر سکتا ہے اور اس طرح ہر درجہ کی اصلاح دوسرے درجوں کی اصلاح میں ممد ہو سکتی ہے۔اور اسی طرح جب انسان پڑتال کرتا چلا جائے گا تو وہ معلوم کر لے گا کہ کن بدیوں کی طرف اس کی طبیعت خصوصیت سے راغب ہے۔اور پھر وہ خالص طور پر ان بدیوں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے۔بدیوں کا ترک کرنا گو اخلاقی اصلاح اور ترقی کے لئے ایک ضروری اور لازم مرحلہ ہے لیکن اگر انسان تمام بدیوں کو ترک کر دے تو بھی وہ ایک اعلیٰ اخلاق کا انسان نہیں کہلا سکتا کیونکہ اعلیٰ اخلاق سے مراد یہ ہے کہ وہ نیک اخلاق کو بھی حاصل کرے۔کوئی انسان محض اس بات پر مطمئن نہیں ہوسکتا کہ وہ چوری نہیں کرتا قتل نہیں کرتا ، زنا نہیں کرتا ، مکر وفریب سے لوگوں کا مال نہیں لوشا ، بے حیائی کا مرتکب نہیں ہوتا ، گندے خیالات اور منصوبوں اور ارادوں کو اپنے دماغ میں جگہ نہیں دیتا۔اس سے اس کو اتنا اطمینان تو ہو سکتا ہے کہ اس نے برائی سے چھٹکارا حاصل کر لیا لیکن یہ اطمینان نہیں ہو سکتا کہ اس نے کوئی نیکی حاصل کر لی ہے یا کوئی بلند اخلاق حاصل کر لیا ہے۔ابھی گویا اس نے اخلاقی اصلاح اور ترقی کی صرف ایک ہی منزل 116