ایک عزیز کے نام خط — Page 110
اپنے اندر نہ بری ہیں نہ اچھی۔ان کا برا یا اچھا ہونا حرکات کے فاعل کی نیت اور ان حرکات کے محل پر موقوف ہے۔اور اس نیت اور محل کے لحاظ سے ہر انسانی فعل یا تو تقویٰ کا رنگ اختیار کر لیتا ہے یا ظلم کا۔اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنيات۔یعنی اعمال کی خیر یا شر عامل کی نیت پر منحصر ہے۔اس طرح تقوی اور ظلم کی تعریف یہ ہے کہ ہر فعل جو نیک نیت کے ساتھ اپنے محل اور دائرہ کے اندر کیا جائے وہ تقویٰ ہے اور ہر فعل جو خلاف محل یا نیت فاسد سے کیا جائے وہ ظلم ہے۔مثلاً ایک انسان کسی دوسرے انسان کو قتل کر ڈالتا ہے تو محض قتل نہ اچھا ہے نہ برا۔نیت اور محل اس کو اچھایا برا بنا دیتے ہیں۔ایک شخص دیکھتا ہے کہ دوسرا شخص ایک با عصمت عورت پر اس کی عصمت دری کی نیت سے حملہ آور ہورہا ہے اور اس کمز ور عورت کو اس وحشی انسان کے حملہ سے بچانے کا اور کوئی طریق نہیں سوا اس کے کہ اس پر فور أحملہ کر دیا جائے اور یہ اس پر حملہ کر دیتا ہے اور وہ شخص اس کا مقابلہ کرتا ہے لیکن مقابلہ میں اپنی جان کھو دیتا ہے۔اب اگر چہ یہ فعل ایک انسان کی جان لینے کا ہے لیکن اس نیت کی وجہ سے جس سے یہ کیا گیا اور اس محل کے سبب سے جس پر یہ صادر ہوا یہ ایک اچھا فعل ہے۔اسی طرح ایک سپاہی جب جنگ میں لڑتا ہے اور دشمن کے سپاہیوں کو قتل کرتا ہے تو اس کا فعل مستحسن ہے۔ایک ڈاکٹر ایک مریض کا نیک نیتی سے آپریشن کرتا ہے اور ہر ممکن کوشش اس کے بچانے کی کرتا ہے لیکن باوجود اس کوشش کے وہ مریض مرجاتا ہے تو ڈاکٹر کا فعل قابل تحسین ہے۔لیکن فرض کرو وہ ڈاکٹر اپنے علم اور تجربہ کے لحاظ سے جانتا ہے کہ مریض کی حالت یا مرض کی نوعیت ایسی ہے کہ اس حالت میں آپریشن کرنا مریض کو نقصان پہنچانے کا موجب ہوگا اور اس کی صحت پر مضر اثر ڈالے گا اور ممکن ہے کہ مریض اس کے نتیجہ میں جانبر نہ ہو سکے اور پھر بھی وہ آپریشن کرتا ہے اور اس کی نیت مریض کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ نقصان پہنچانا ہے اور آپریشن کے نتیجہ میں مریض مرجاتا ہے یا باوجود اپریشن کے صحتیاب ہو جاتا ہے دونوں صورتوں میں ڈاکٹر کا فعل ظالمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا 110