عظیم زندگی — Page 162
١٩٢ روز یہ پرورش پا کر ایک نئی روحانی تخلیق کی صورت میں نمودار ہوگی۔جاننا اور سمجھنا بھی ضروری ہے کہ برزخ کی حالت کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں روح قیامت کے آنے تک بے جس پڑی رہے گی کیونکہ برزخ میں روحانی پرورش گویا اس طرح پائے گی جس طرح عورت کے رحم کے اندر بچہ پرورش پاتا ہے۔روح کی دوبارہ پیدائش کے اس عرصہ میں روح جنت کی نعمتوں یا جہنم کی سزاؤں سے موت کے وقت اپنے روحانی مقام کے مطابق آگاہ ہوگی حتی کہ اس زندگی میں بھی انسان جنت یا جہنم کی زندگی سے آگاہ ہوتا رہے گا لیکن برزخ میں وہ خوب محسوس کئے جائیں گے یا روز قیامت اس سے بھی زیادہ۔وہ لوگ جو اپنی روح کی پرورش سے غفلت کرتے ہیں ان کو قرآن مجید کا یہ ارشاد یا درکھنا چاہیے :- فَيَوْمَذ لا يُعَذِّبُ عَذَابَةً اَحَدُه (۲۲:۸۹) جبکہ اس کے برعکس اطمینان قلب صرف متقیوں کا اجر ہے۔فرمایا :- يا يتهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكَ رَاضِيَةً مرْضِيَّةً ، فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِى۔) ۸۹ : ۲۸ تا ۳۱ ) یاد رہے کہ روح کے سفر کا کوئی انجام نہیں جب یہ ایک دفعہ پاک ہو جاتی ہے تو کائنات کی گہرائیوں میں یہ دن رات مزید سے مزید ترقی کرتی ہے۔یہ اس لئے نہیں کہ اس نے مزید نیک کام کئے ہوتے ہیں کیونکہ نیکی یا بدی کرنے کی استطاعت تو موت کے بعد ختم ہو جاتی ہے محض خدا کا فضل ہوتا ہے۔ایسی روحوں