عظیم زندگی — Page 146
۱۴۶ شخصیت کے پھول اور دلربا پھل پیدا کرے یاد رکھو کہ اپنے نفس کا آقا بناہی کامیابی • کی گنجی ہے۔یہ اصول یا نظر یہ خدا کی مالکیت کی صفت کے ہرگز خلاف نہیں یہ ٹھیک ہے کہ خدا ہی تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے اور یہ کہ وہ جہاں بھی اور جب بھی چاہتا ہے مداخلت کر سکتا ہے لیکن یہ بھی ناممکن ہے کہ قدرت کے اصولوں میں جنہیں اس نے خود بنایا ہے مداخلت کرے۔ایک گیند جو ہوا میں پھینکا جائے تو وہ کشش ثقل کے اصول کے ماتحت زمین کی طرف ہی گرے گا ہاں خدا تعالیٰ میں یہ طاقت ضرور ہے کہ وہ گیند کو زمین کی طرف گرنے سے روک دے اور گیند یوں ہوا میں ہی معلق رہے لیکن جب تک اس کرشمہ کے دکھانے کی کوئی اشد ضرورت نہ ہو تو خدا قدرت کے اصولوں میں مداخلت نہیں کرتا لاریب حضرت ابراہیم کو آگ میں پھینکا گیا لیکن خدا نے آپ کو آگ کے شعلوں سے محفوظ رکھا لیکن یہ ایک خاص نادر موقع تھا ورنہ آگ تو ہمیشہ جلاتی ہے۔اسی طرح ذہن کی تخلیقی قوت کے قوانین کام کرتے ہیں اگر چہ تسلیم کرناضروری ہے کہ خدا میں مداخلت کی طاقت ہے کیونکہ خدا مالک کائنات ہے ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔تحت الشعوری دماغ میں اتنی قوت ہے کہ یہ بعض پیچیدہ اور شکل ترین مسائل کو آناً فاناً حل کر دیتا ہے بعض دفعہ مسائل کے حل ہمارے دماغ میں ہوتے میں اور بعض دفعہ جاگتے ہیں آجاتے ہیں جبکہ دماغ اس مذکورہ مسئلہ پر غور نہیں کو رہا ہوتا۔یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سونے سے قبل اپنے آپ کو کوئی کام تجویز کرنے سے تحت الشعور ی دماغ حرکت میں آجاتا ہے کیونکہ دماغ کی تخلیقی قوت اس وقت