عظیم زندگی — Page 98
۹۸ ہے :- شہار کے دریا قرآن مجید میں مومنوں سے جنت کے جن باغوں کا وعدہ کیا گیا ہے وہ یہ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا الْهرُ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ اس۔۔۔۔۔وَاَنْهَرُ مِنْ عَسَلٍ مُّصَفَّى (۱۲:۴۷) مذکورہ بالا آیت کریمہ میں جنت کی ایک خوبصورت مثال پیشیں کی گئی ہے۔اس آیت کا مطلب لفظ بلفظاً لینا درست نہیں کیونکہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ آنے والی دُنیا کی نعمتیں انسانی تصور سے بہت بالا ہیں۔ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے :- فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةٍ أَعْيُنٍ جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(۱۸:۳۲) اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے فرمایا " جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کو اس آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کان نے سنا اور نہ ہی یہ دل پر گزریں کر انسان انہیں سوچ بھی سکے “