اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 81
عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 81 خاص نہیں بلکہ جمع قرآن کی وہ شکل جو تعلیم واشاعت سے تعلق رکھتی ہے ہر دور میں امت مسلمہ کا فرض رہا ہے اور یہ فرض ہمیشہ امت مسلمہ نے پوری تن دہی اور ایمانداری سے سرانجام دیا ہے اور آج بھی دے رہی ہے۔آج بھی قرآن کریم کی طباعت اسی احتیاط سے ہوتی ہے اور باقاعدہ حکومتوں سے منظور شدہ اہل علم قرآن کریم کی تحریر کا گہری نظر سے جائزہ لیتے ہیں اور وہی قرآن کریم کا نسخہ مستند سمجھا جاتا ہے جس پر یہ گواہی درج ہو کہ یہ نسخہ مصحف عثمان کے عین مطابق ہے۔صحابہ کے دور میں جمع قرآن سے مراد اور اس کا محرک یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن کریم لکھا اور تحریری صورت میں جمع اور محفوظ کیا جا چکا تھا اور اس کی مسلمانوں میں خوب اشاعت ہو چکی تھی۔ہزاروں حفاظ موجود تھے۔بہت سے صحابہ کے پاس ذاتی تحریرات موجود تھیں جن میں قرآن کریم کی آیات درج تھیں۔علامہ سیوٹی کا یہ بیان ہے کہ امام ابن حزم نے لکھا ہے کہ خلیفہ اول کے دور میں کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں لوگوں کے پاس بکثرت قرآن نہ ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد عرب میں ارتداد پھیلنا شروع ہوا اور جھوٹے مدعیان نبوت بھی کھڑے ہو گئے۔اسلام کے خلاف ہر قسم کی سازشیں ہونے لگیں اور بہت ہی پر آشوب دور تمام تر ہولنا کیوں کے ساتھ اسلام کے سامنے آکھڑا ہوا۔اسی دوران مسیلمہ کذاب سے ایک خونریز معرکہ ہوا جس میں بہت کثرت سے حفاظ قرآن اور قراء صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔اس خونریز معرکہ کی وجہ سے حضرت عمرؓ کے دل میں ایک زبردست تحریک پیدا ہوئی کہ قرآن کریم کو تمام تر شبہات کے ازالہ کے ساتھ ایک جگہ لکھ کر جمع کر لیا جائے ورنہ اگر اسی کثرت سے قراء و حفاظ صحابہ شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا ایک حصہ کثیر ضائع ہو جائے گا۔چنانچہ امام بخاری نے روایت کیا ہے: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو بَكْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَة بِقُرَّاء الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِن فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنْ الْقُرْآنِ وَإِنِّي