اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 80
الذكر المحفوظ 80 مانا جاسکتا ہے کہ جو آیت بھی نازل ہوتی تھی وہ کسی نہ کسی آیت کو منسوخ ہی کرتی تھی ؟ اگر یہ کہا جائے کہ جب تک آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حین حیات تھے، کسی ممکنہ وحی کا انتظار رہتا تھا تو کیا یہ کہنے سے بات مکمل نہیں ہو جاتی ؟ ناسخ اور منسوخ کی یہاں کیا سوجھی۔اپنی طرف سے حاشیوں پر حاشیے چڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کہنا ہی کافی ہے کہ قرآنی وحی کا نزول آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے مشروط تھا۔جب تک آنحضور زندہ تھے یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اب قرآن کریم کی مزید وحی نہیں آئے گی۔یہ بحث کرنا فضول ہے کہ اس وحی کی شکل کیا ہوگی کیا نہ ہوگی؟ وہ ناسخ ہوگی یا منسوخ ہوگی؟ پس بلا دلیل اور بلاضرورت یہ کہہ دینا کہ نسخ کے نزول کا انتظار تھا، زائد اور فضول بات ہے۔یہ کہنا کافی ہے کہ مزید وحی کا نزول متوقع تھا۔علامہ زرکشی فرماتے ہیں: عہد رسالت میں قرآن کو ایک مصحف میں اس لیے نہ لکھا گیا تا کہ اس کو بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔اس لیے قرآن کی یکجا کتابت کو اس وقت تک ملتوی رکھا گیا جب تک کہ آنحضور کی وفات کی وجہ سے نزول قرآن کی تکمیل کا یقین نہیں ہو گیا۔“ البرهان فی علوم القرآن جزء اول صفحه 262) اس ضروری وضاحت کے بعد مضمون آگے بڑھاتے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قرآن کریم کی خوب اشاعت ہو چکی تھی اور کثیر تعداد میں نسخے موجود تھے۔مسند خلافت پر متمکن ہونے کے ایک سال کے بعد حضرت عمر کی تجویز پر آپ نے حضرت زید بن ثابت انصاری کو حکم دیا کہ وہ تحریری اور زبانی ہر دو قسم کی گواہی کے ساتھ قرآن کریم کو ایک مرکزی مجلد کتاب کی شکل میں جمع کر دیں۔چنانچہ احتیاط کے تمام تر تقاضے پورے کرتے ہوئے اور تمام امت مسلمہ کو گواہ بناتے ہوئے حضرت ابو بکر کی سرکردگی میں اس کام کو بھی بخوبی سرانجام دیدیا گیا۔اس سے پہلے مسلمہ طور پر چار صحابہ کے پاس مکمل لکھا ہوا موجود تھا جو کہ براہ راست آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں تحریر کیا گیا تھا اور منتشر طور پر صحابہ کے پاس عام موجود تھا۔ہزاروں حفاظ موجود تھے۔دن رات درس و تدریس کے سلسلے جاری تھے۔رمضان میں مکمل قرآن کی تلاوت ہوتی تھی۔نماز میں تلاوت، اجلاسات اور محافل میں تلاوت ہوتی تھی۔حضرت عثمان نے حضرت ابو بکر کے زیر نگرانی مدون ہونے والے نسخہ قرآن کریم کی نقول کروا کے مختلف صوبوں میں پھیلا دیں اور پھر ان سے مزید نقول تیار ہوئیں۔پس صحابہ کے دور میں جمع قرآن سے صرف یہ مراد ہے کہ قرآن کریم ایک کتابی شکل میں انتہائی احتیاط کے ساتھ اکٹھا کر لیا گیا اور اس کی تعلیم وتفہیم اور اشاعت کا اعلیٰ انتظام کیا گیا۔جمع قرآن صرف صحابہ کے دور سے ہی