اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 55 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 55

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 55 نے فرمایا ، جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تو قیامت کے روز اس کے ماں باپ کو دو تاج پہنائے جائیں گے جن کی روشنی سورج کی چمک سے بھی زیادہ ہو گی جو ان کے دنیا کے گھروں میں ہوتی تھی پھر جب اس کے والدین کا یہ درجہ ہے تو خیال کرو کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جس نے قرآن پر عمل کیا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم قرآن کریم کا زیادہ علم رکھنے والے کو دوسرے اصحاب پر فضیلت دیتے تھے۔چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ رسول کریم امامت اور قیادت کی سپردگی کے وقت یہ خاص خیال رکھتے تھے کہ قرآن کریم کا علم کس کے پاس زیادہ ہے۔اسی طرح جب جنگ احد میں شہدا کی تدفین کا مرحلہ آیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پہلے ان صحابہ کو دفن کر و جو قرآن کریم کا زیادہ علم رکھتے تھے۔گویا وفات کے بعد بھی عالم قرآن کی عزت قائم رکھی گئی ہے۔(بخاری کتاب الجنائز باب الصلاة على الشهيد) عَنْ عُثمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَن النَّبي صلى الله عليه وسلم قَالَ: خَيْرُكُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب : خيركم من تعلم القرآن وعلمه) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو خود قرآن سیکھتا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔عَنْ عُثْمَانَ بْن عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ أَفْضَلَكُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب : خيركم من تعلم القرآن وعلمه) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم میں سے افضل وہ ہے جو خود قرآن سیکھتا ہے اور دوسروں کو قرآن سکھاتا ہے۔عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ - (ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ماجاء في فضل قارئ القرآن) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، وہ شخص جو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اور اس میں عبور رکھتا ہے وہ فرمانبردار اور معزز سفر کرنے والوں کے ساتھ ہوگا۔