اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 35
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 35 کی علمی حالت ایسی نہ تھی کہ قرآنی مضامین کی گہرائی میں جا کر ان کو سمجھ پاتے۔باوجود معنے نہ جاننے کے مسلمانوں کا قرآن کریم کو یاد کرتے چلے جانا یقیناً محافظت قرآن کے الہی وعدہ کے پورا ہونے کی دلیل ہے۔چنانچہ روایت ہے: عن عبد الله بن عمرو قال جاء رجل الى رسول الله ﷺ فقال يا رسول الله اني اقرأ القرآن فلا اجد قلبي يعقل عليه (مسند احمد؛ مسند المكثرين من الصحابه؛ مسند عبد الله بن عمرو بن العاص) یعنی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں قرآن کریم تو پڑھتا ہوں مگر مجھے اس کی سمجھ نہیں آرہی ہوتی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ امسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے قرآن کریم کے پیرو قرآن کریم کو بے معنی ہی پڑھتے رہتے ہیں اس کے معنی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ بھی اس آیت (انا) نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ۔الحجر :10) میں مذکور وعدہ کی تصدیق ہے۔مسلمانوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے کس طرح قرآن کریم کی محبت ڈال دی ہے کہ معنی آئیں یا نہ آئیں وہ اسے پڑھتے چلے جاتے ہیں یقیناً ہر مسلمان کا فرض ہے کہ قرآن کریم کو با معنی پڑھے اور اس طرف سے تغافل بڑی تباہی کا موجب ہوا ہے۔( تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 18 کالم 2 زیر تفسیر سورۃ الحجر (10) پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صحابہ بھی قرآن کریم کی درس و تدریس اور اسکی تعلیمات کی اشاعت کے لیے کوشاں رہتے حضرت ابوسعید ابونضر کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: احفظوا عنا كما حفظنا عن رسول الله ﷺ (مقدمه) سنن الدارمی باب من لم ير كتابة الحديث) یعنی ہمارے زیر نگرانی اسی طرح قرآن شریف حفظ کر لو جس طرح ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگرانی میں حفظ کیا تھا۔اس روایت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑی کی قرآن کریم ایک تواتر کے ساتھ حفظ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک حفاظ کے سینوں میں محفوظ چلا آرہا ہے اور حفظ قرآن کی مبارک عادت امت محمدیہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور سے لے کر بغیر کسی وقفہ کے اب تک جاری ہے۔ساری