اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 34 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 34

الذكر المحفوظ 34 دَرَجَةٍ وَ قِرَاءَ تُهُ فِي الْمُصْحَفِ تَضْعَفُ عَلَى ذلِكَ إِلَى الْفَى دَرَجَةٍ (مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن الفصل الثالث) عبداللہ بن اوس تلفظی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرما یا کسی شخص کا زبانی قرآن کریم پڑھنا ایک ہزار درجہ کے برابر ہے اور قرآن کریم کو مصحف سے دیکھ کر پڑھنا اسے دو ہزار درجہ تک بڑھاتا ہے۔یہاں حافظ قرآن کو یہ نصیحت بھی فرما دی کہ ہمیشہ اپنے حافظہ پر ہی انحصار نہ کرے بلکہ وقتا فوقتا کتاب الہی سے تلاوت کر کے اپنے حفظ کی درستگی یقینی بناتا ر ہے۔پھر حافظ قرآن کو با قاعدگی سے تلاوت قرآن کریم کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبي صلى الله عليه وسلم قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ حَافِظٌ لَّهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ يَتَعَاهَدُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَان - “ 66 (بخارى كتاب التفسير تفسير سورة عبس) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جو قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کا حافظ ہے وہ ایسے لکھنے والوں کے ساتھ ہوگا جو بہت معزز اور بڑے نیک ہیں اور وہ شخص جو قرآن کریم کو پڑھتا ہے اور اس کی تعلیمات پر شدت سے کار بند ہوتا ہے اس کے لیے دو اجر ہیں۔عن ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ مثل القرآن مثلاً الابل المعلقة ان تعاهد صاحبها بعقلها امسكها عليه و ان اطلق عقلها ذهبت (ابن ماجه کتاب الادب باب ثواب القرآن) یعنی قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی مانند ہے۔جب تک اس کا مالک اس کی رہی تھامے رکھے گا وہ اس کے پاس رہے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو وہ چلا جائے گا۔اور اس میں شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ایسے عشاق جانثار عطا کیے تھے جو رضائے الہی کو رضائے رسول سے وابستہ سمجھتے اور آنحضور کی اطاعت کو دُنیا جہان کی فلاح اور کامیابی اور نجات کا سامان سمجھتے تھے اس لیے آپ کے فرمودات اور ارشادات پر لبیک کہتے ہوئے پر کثرت کے ساتھ صحابہ نے قرآن کریم حفظ کرنا شروع کر دیا۔ابتدائی مؤمنین کا قرآن کریم سے عشق و محبت کا یہ حال تھا کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی حفظ کرنے لگے جن